جنوبی کوریا: زیرحراست سابق وزیردفاع کی خودکشی کی کوشش

جنوبی کوریا: زیرحراست سابق وزیردفاع کی خودکشی کی کوشش
کیپشن: جنوبی کوریا: زیرحراست سابق وزیردفاع کی خودکشی کی کوشش

ویب ڈیسک: جنوبی کوریا کے زیرحراست سابق وزیر دفاع کم یونگ ہیون نے خودکشی کی ناکام   کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے صدارتی دفتر پر چھاپہ مارا ہے اور صدر کو ملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔ جس سے سیاسی بحران مزید بڑھ گیا۔

تفصیلات کے مطابق صدر یون سک یول کی جانب سے  مارشل لاء کے  نفاذ کے اعلان اور واپسی پر وسیع تحقیقات  جاری ہیں جبکہ عوامی غم وغصے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

صدر یون سک یول کے خلاف استغاثہ بغاوت کے الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کی تیاریاں کررہا ہے جبکہ حزب اختلاف نے ابھی تک مواخذے کی امید نہیں چھوڑی اور مسلسل کوششوں میں مصروف ہے۔ 

یادرہے کہ خودکشی کی ناکام کوشش کرنےوالے جنوبی کوریا کےسابق وزیردفاع کِم یونگ ہیون کو اتوار کو دارالحکومت سیول میں حراست میں لیا گیا تھا، جو اس معاملے میں حراست میں لیے جانے والی پہلی شخصیت بن گئے ہیں۔ 

انہوں نے مبینہ طور پر مارشل لاء لگانے کی سفارش کی اور جمعرات کو وزیر دفاع کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

کوریا کریکشنل سروس کے کمشنر جنرل شن یونگ ہی نے کہا کہ کم نے منگل کو دیر گئے گرفتاری کا باقاعدہ وارنٹ جاری ہونے سے پہلے خودکشی کی کوشش کی۔

واقعہ ایک باتھ روم میں پیش آیا۔ تاہم جب ایک افسر نے عجیب وغریب آوازیں سن کہ باتھ روم کا دروازہ توڑ دیا تو کم نے کوشش ترک کر دی۔

کمشنر شن نے ایوان میں اپنے بیان میں کہا کہ سابق وزیردفاع کم کو ایک علیحدہ کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اسے صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

Watch Live Public News