کینیڈا: پاکستانی نژاد مسلم خاندان کے قاتل کو 5 مرتبہ عمر قید کی سزا

کینیڈا: پاکستانی نژاد مسلم خاندان کے قتل کے مجرم کو 5 مرتبہ عمر قید کی سزا 
کیپشن: Canada: Convict of murder of Muslim family of Pakistani origin sentenced to 5 life imprisonment

ویب ڈیسک: کینیڈا کی ایک عدالت نے کینیڈین شہری کو پاکستانی نژاد مسلم خاندان کے قتل کے جرم میں 5 مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

گزشتہ روز اونٹاریو کی سپریم کورٹ آف جسٹس کے جج رینی پومیرنس نے کینیڈین شہری نیتھنیل ویلٹ مین کو ایک مسلمان خاندان کو قتل کرنے کے جرم میں 5 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

کینیڈا کے 23 سالہ نیتھنیل ویلٹ مین نے جون 2021ء میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک مسلمان خاندان کے 4 افراد کو قتل کیا، جرم کی سزا پانے والے کینیڈین شہری نے اپنے ٹرک سے مسلمان خاندان کو کچلنے کا اعتراف کیا تھا۔

استغاثہ نے مقدمے کی سماعت میں مؤقف اختیار کیا کہ مجرم نیتھنیل ویلٹ نے اپنے جرم سے مسلمانوں کو ڈرانے اور دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ مجرم کا دفاع کرنے والے وکلاء کا مؤقف تھا کہ نیتھنیل ویلٹ مین ذہنی بیماری کا شکار ہے۔

جرم کے وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ وہ ہالوکینوجینک سائلو سائیبن مشروم کھانے کے بعد ‘انتہائی الجھن کی حالت’ میں تھا، تاہم عدالت نے مجرم کے وکلاء کا مؤقف قبول نہیں کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرم نیتھنیل ویلٹ مین نے ‘مہینوں سے مسلمانوں پر ایک قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے تھے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اس وحشیانہ طریقے سے قتل کر دے گا۔’

جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ‘میں نے محسوس کیا کہ مجرم کی کارروائیاں دہشت گردانہ سرگرمیاں ہیں۔‘

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’تقریباً 10 ہفتوں کے مقدمے میں جیوری نے پایا کہ مجرم کے کمپیوٹر میں سفید فام قوم پرست تنظیم کا منشور تھا، جس میں اس نے سفید فام قوم پرستی کی حمایت کی تھی اور مسلمانوں سے اپنی نفرت کو بیان کیا تھا۔

جج نے نوٹ کیا کہ ویلٹ مین اتوار کی ایک گرم شام کو لندن کی ایک سڑک پر مسلمان شہری افضل اور ان کے خاندان کے پاس سے گزرا، اپنے نئے خریدے ہوئے ٹرک سے ان کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔

مقدمے کی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مسلمان خاندان پر حملے کے دوران مجرم نے ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ سمیت ‘جنگی سامان’ پہن رکھا تھا۔

مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق نتھینیل نے اس خاندان کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ اس نے اس خاندان کی 2 خواتین کو روایتی پاکستانی کپڑے پہنے دیکھ لیا تھا۔

جج پومیرینس نے کہا کہ نتھینیل ’اسپاٹ لائٹ میں اپنی جگہ ڈھونڈ رہا تھا‘ جب اس نے اس خاندان کو نشانہ بنایا۔

سلمان افضال کا خاندان 2007 میں اسلام آباد سے کینیڈا منتقل ہوا تھا۔