لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کی خفیہ نیلامی کالعدم قرار دیدی

لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کی خفیہ نیلامی کالعدم قرار دیدی
لاہور ( پبلک نیوز) توشہ خانہ کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی روکنے کےلئے درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی جانب سے جاری کردہ عدالتی فیصلہ پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے توشہ خانہ کی بند کمرے میں حکومت کی نیلامی کرنے کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے توشہ خانہ کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانون سازی اور رولز بنانے کا حکم دے دیا۔ وفاقی وکیل نے بھی درخواست کی مخالفت کی۔ وفاقی وکیل نے کہا کہ اس بارے میں قانون سازی اور رولز بنانے کی ضرورت ہے، یہ رولز سول سرونٹس قانون کے تحت وفاقی حکومت نے بنانا ہے۔ عدالت نے توشہ خانے کے نوادرات کی نیلامی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلہ میں بتایا گیا کہ توشہ خانہ کے نوادرات کی نیلامی کا نوٹیفکیشن آئین سے متصادم ہے۔ عدالت نے حکومت نے قانون سازی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ آئین و قانون کے تحت ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ عدالتیں شہریوں کے آئینی حقوق کی ضامن ہیں۔

شازیہ بشیر نےلاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 42 نیوز اور سٹی42 میں بطور کانٹینٹ رائٹر کام کر چکی ہیں۔