افغان حالات کی وجہ سے پاکستان میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے

افغان حالات کی وجہ سے پاکستان میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے
اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان میں بھی خانہ جنگی کا خطرہ ہے، پاکستان اب مزید افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ، یہ الزام احمقانہ ہے کہ 10 ہزار جنگجو افغانستان میں بھیجے گئے ہیں اگر اس میں سچائی ہے تو افغانستان اس کے ثبوت کیوں نہیں دیتا ۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں، افغان مہاجرین کے کیمپ ہیں ، پہلے آپ افغان مہاجرین کو واپس لے کر جائیں اس کے بعد جواب طلبی کریں، امریکہ اور نیٹو فورسز کے پاس اس وقت سودے بازی کی اخلاقی قوت نہیں رہی جب انہیں یہ احساس ہو گیا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں نکل سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو اب سیاسی حل کی طرف لانا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ وہ خود کو فاتح سمجھتے ہیں، ہم زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے ہیں کہ افغانستان کے مسائل کے سیاسی حل کیلئے دباؤ ڈالیں ، ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور ہم کسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام نے عورت کو عزت اور وقار دیا ہے، میں نے پوری دنیا میں سفر کیا اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ مسلم ممالک اور پاکستان میں خواتین کو ساتھ بہت زیادہ عزت والا برتاؤ کیا جاتا ہےاور انہیں بہت رتبہ دیا جاتا ہے، آپ آج بھی دیکھیں کہ پاکستان میں جنسی زیادتی کے کیسز مغرب سے بہت کم ہیں اور اس کا موازنہ کرنا ہی ایک منفی امر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں اپنے مسائل ہیں، ہماری ثقافتی مسائل ہیںمگر یہ کس قوم میں نہیں ہوتا مگر یہ ہر ثقافتی انقلاب کے ساتھ ہوتا ہے۔جہاں تو عورت کو رتبہ اور عزت دینے کی بات ہے کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ معاشرے عورت کو زیادہ عزت اور رتبہ دیتا ہے۔