حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں مزید 1 روز کی توسیع

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں مزید 1 روز کی توسیع
حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں مزید ایک روز کی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ثالثیوں نے اسرائیل کو قیدیوں کی رہائی سے متعلق فہرست مہیا کی ہےلیکن اسرائیل نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے قیدیوں کی تبدیلی پر اصرار کیا تھا، تاہم اب اطلاعات یہ ہیں کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں مزید ایک روز کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چھ روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے کچھ منٹ قبل جنگ بندی میں ایک روز کی توسیع کی گئی ہے ، مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لئے جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کسی بھی ٹائم فریم کی وضاحت کے بغیر بیان دیا گیا ہے کہ ثالثیوں کی کوششوں کے نتیجے میں معاہدےکے تحت یرغامالیوں کی رہائی کاعمل جاری رہےگا، ثالثیوں کی کوششوں کے نتیجے میں طے شدہ فریم ورک کے تحت آپریشنل وقفہ جاری رہےگا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کا اختتام قریب پہنچنے کے ساتھ اسرائیلی کابینہ کے دھمکی آمیز بیانات تیز ہوگئے تھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ حماس کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے میں توسیع کے عوض مزید سات خواتین اور یرغمالی بچوں کو لینے سے انکار کردیا ہے جبکہ اسرائیل نے 3 افراد کی لاشیں لینے سے بھی انکار کیا ہے جو اسرائیلی فوج کی بمباری کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق حماس نے اپنے جنگجوؤں کو یہ پیغام جاری کیا تھا کہ اگر جنگ بندی میں توسیع نہ ہوئی تو وہ لڑائی کے لیے تیار رہیں۔ القسام بریگیڈز نے اپنی فورسز کو جنگ بندی معاہدے کے آخری گھنٹوں میں ایک بڑی لڑائی کی تیاری رکھنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ حماس نے عارضی جنگ بندی معاہدے کے چھٹے اور آخری روز 4 غیرملکیوں سمیت 16 یرغمالی رہا کردیے جبکہ حماس کے جانب سے یرغمالیون کی رہائی کے بعد اسرائیل کو بھی بھی مزید 30 فلسطینی رہا کرنے پڑے۔ عرب میڈیا رپورٹ کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے 5 خواتین اور 5 بچوں سمیت مزید 10 اسرائیلیوں اور 4 تھائی شہریوں کو رہا کیا گیا ہے جب کہ اس سے چند گھنٹے قبل روس کی دوہری شہریت کی حامل 2 اسرائیلی خواتین کو بھی رہا کیا گیا تھا۔ ترجمان قطری محکمہ خارجہ ماجد محمد الانصاری نے بتایا ہے کہ حماس کی جانب سے رہائی پانے والے یرغمالیوں میں دوہری ڈچ شہریت کے حامل بچے سمیت 3 جرمن اور1 امریکی بھی شامل ہے۔

Watch Live Public News

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔