’’حکومت قومی مفادات کا سودا کرنے پر تلی ہے‘‘

’’حکومت قومی مفادات کا سودا کرنے پر تلی ہے‘‘
اسلام آباد(پبلک نیوز) مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہکیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت واپس کر دی ہے؟؟بھارت سے تجارت شروع کرنے کے پیچھے اصل مفاد کیا ہے؟، یہ قومی مفاد کا سودا کرنے پرتلے ہوئے ہیں ملک بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ صاف و شفاف انتخابات ٗ مسلم لیگ ن کے پاس معاشی پروگرام، معاشی تجربہ اور معاشی ٹیم بھی ہے آج ہر کوئی مسلم لیگ ن کے منصوبوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے یہ حکومت کورونا ویکسین کی حفاظت نہیں کر سکی، کہیں اسے ضائع تو کہیں اسے خرد برد کر کے وی آئی پیز کو لگا دیا گیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال نےاحتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت مسلم لیگ ن کی قیادت کیخلاف جھوٹے مقدمات میں سیاسی انتقام کو جاری رکھے ہوئے ہے جو افسوس کی بات ہے یہ حکومت 3 سال بعد بھی وزیر خزانہ تلاش کر رہی ہے جو ملکی سالمیت کیخلاف اقدام ہے یہ حکومت آج تک ایک بھی منصوبہ سامنے نہیں لا سکی ہے موجودہ حکمران کے پاس "میں" کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اس خود پسندی نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں ملک مسلسل ترقی کرتا رہا لیکن آج ترقی انتہائی حد تک گر چکی ہے پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عمران نیازی نے ملک کو وہ نقصان پہنچایا ہے جو دشمن اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی نہ کر سکتا اس حکومت کو مزید برداشت کرنا ممکن ہےاس ملک کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب شخص بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں لوگوں کے لئے خوراک کی اشیا ان کی پہنچ سے دور کر دی گئی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ شوگر و آٹا مافیا کیخلاف کارروائی کا ناٹک کیا جاتا ہے لیکن نیب کدھر ہے اربوں روپے کے غبن کی تحقیقات ہو جانے کے بعد بھی کس کو گرفتار کیا گیا ہے؟نواز شریف قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت سے تعلقات کی بات کرتے تھے تو ان کیخلاف نعرے لگائے جاتے تھے آج مجاہد ملت مفتی عمران خان صاحب اس بات کا جواب دیں کہ ہواوں کا رخ کیسے بدل گیا ہے؟؟؟انہوں نے کہا کہ یہ کورونا، معیشت، خارجہ امور سمیت کسی چیز کو بھی مینج نہیں کر سکے عمران خان کی آخری اننگز چل رہی ہے کیونکہ ان کا جانا ٹھہر گیا ہے پی ڈی ایم کی جماعتیں یکسو ہیں پیپلزپارٹی نے ایک سرکاری جماعت سے اتحاد کر کے گھاٹے کا سودا کیا ہے ہماری جدوجہد صرف عمران خان کو نکالنا نہیں بلکہ 73 سال سے جاری میوزیکل چیئر کے کھیل سے نکال کر ملک کو دوبارہ کھڑا کرنا ہے آج سی پیک کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اگر ہماری حکومت رہتی تو آج سی پیک کو پورٹ فولیو 100 ارب ڈالر پر پہنچ چکا ہوتا