پاکستان سے انتہائی اہم معدنیات نکل آئی، اربوں ٹن ذخائر

پاکستان سے انتہائی اہم معدنیات نکل آئی، اربوں ٹن ذخائر
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان نے چینی انجینئرز کی مدد سے انتہائی قیمتی معدنیات دریافت کر لی ہے۔ اسے پاکستانی تاریخ میں انتہائی اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اہم معدنیات پاک چائنہ اکنامک کوریڈو ( سی پیک) کے حصے تھرکول پراجیکٹ سے دریافت کی گئی ہے۔ پاکستانی اور چینی انجیئنرز نے مل کر کھدائی کا یہاں عمل شروع کیا تھا۔ صرف 145 میٹرز کی کھدائی کی تو وہاں سے کوئلے کی کان نکل آئی۔ ماہرین نے اس دریافت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی سونے کی کان ہے جہاں کم از کم پانچ ارب ٹن کوئلہ محفوظ ہے۔ جو اتنے ہی خام بیرل تیل کے مساوی ہے۔ یہ اتنے بڑے ذخائر ہیں جو پاکستان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں گے۔ تھرکول پراجیکٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں اس منصوبے کی سالانہ پیداوار 7 اعشاریہ 8 ملین ٹن ہے۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ کا شمار چائنہ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ اس کا بلاک 1 ڈاؤن سندھ کمپنی کے زیر ملکیت ہے جبکہ کے زیادہ تر شیئر ہولڈرز شنگھائی الیکٹرک گروپ سے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ اس پراجیکٹ کے اہم سنگ میل کے تحت 19 ستمبر 2011ء کو ایس ایس آر کو اوپن پٹ کوئلہ کان تیار کرنے کے لئے تھرکول بلاک ایل کو مختص کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 24 مئی 2012ء کو کان کنی کی لیز دی گئی اور اس منصوبے کو حکومت پاکستان اور چین کی حکومت نے جوائنٹ انرجی ورکنگ گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔ پراجیکٹ کے چینی اور پاکستانی سربراہ مسٹر لی جین اور چودھری عبدالقیوم نے پاکستان کی اس کامیابی کو تمام ورکروں کی مشترکہ اور مربوط کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔