آئی ایم ایف پاکستان کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہے

آئی ایم ایف پاکستان کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہے
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کیساتھ ہر قیمت پر ڈیل کرنی تھی کیونکہ سابق حکومت نے اس اہم معاملے میں تاخیر کر دی تھی۔ اب صرف ایک ارب ڈالر کی رقم کیلئے آئی ایم ایف ہمیں تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔ لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سینئر صحافی ایاز امیر پر تشدد کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ میں نے سینئر کالم نگار سے ملاقات کرکے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معیشت کی زبوں حالی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہم نے سوچا تھا کہ نئے انتخابات میں چلے جائیں۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ پیٹرول کی قیمت کو نہ بڑھایا جائے کیونکہ اسی سے مہنگائی بھی بڑھتی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سب کو مل بیٹھنا ضروری ہو چکا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی والوں نے کچھ کرنا ہوتا تو اپنے دور اقتدار میں کر چکے ہوتے۔ انہوں نے اپنے بیان میں عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں جن افراد کی تقدیر بدلی ہے ان کے نام فرح گوگی اور ان کے شوہر احسن گجر ہیں۔ جن کے نام تک یہ زبان پر نہیں لاتے اور نہ اس معاملے پر کوئی جواب دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان دھمکیاں دیتے ہیں اور کہتے میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ وہ لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں اور کسی کیساتھ نہ بات کرتے ہیں اور نہ ہی بیٹھنے کو تیار ہیں۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی گفتگو کا نقصان صرف اور صرف قوم کا ہوتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان نے 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ ملک کی امن وامان کی صورتحال اور معیشت کی بہتری کا دارومدار اسی بات میں ہے کہ سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایک ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف ملک کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔ ملک دیوالیہ ہو گیا تو ملک میں افراتفری پھیلے گی۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔