فارن فنڈنگ: پی ٹی آئی کو وضاحت کا موقع ملنے کا امکان

فارن فنڈنگ: پی ٹی آئی کو وضاحت کا موقع ملنے کا امکان
میڈیا رپورٹس میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے پر وضاحت کا ایک موقع دیا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شو کاز نوٹس جاری ہونے کے بعد 7 سے 14 روز کے اندر جواب دینا ہوتا ہے۔ تاہم اگر تحریک انصاف ایسی دستاویزات لے آئے جو اس کے حق میں جاتی ہوں تو پھر الیکشن کمیشن اپنا فیصلہ واپس لے لے گا۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پارٹی کو تحلیل کرنے اور اس کے فنڈز کی ضبطگی یا اختیار وفاق کے پاس ہے۔ الیکشن کمیشن اپنا ریفرنس شوکاز نوٹس کی کارروائی مکمل ہونے پر حکومت کو ارسال کر دے گا۔ وفاقی حکومت ممنوعہ فارن فنڈنگ کے ثبوت مہیا ہونے اور اس کی جانچ پڑتال کرکے سپریم کورٹ کو ڈکلیریشن جاری کرے گی کہ اس کی روشنی میں پی ٹی آئی کو تحلیل کر دیا جائے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس اس اہم فیصلے کا آخری اور حتمی اختیار رہ جاتا ہے کہ وہ اس ڈکلیریشن مسترد کرکے یا منظور کرلے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 2 جولائی 2022ء کو پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ کے تاریخی کیس کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اس متفقہ فیصلے میں یہ چیز ثابت ہو گئی تھی کہ پی ٹی آئی کو ممنوعہ فنڈنگ کی گئی تھی۔ یہ بھی پڑھیں: ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟ الیکشن کمیشن ایکٹ سنہ 2017 کے سیکشن 204 کے سب سیکشن 3 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو بلواسطہ یا بلاواسطہ حاصل ہونے والے فنڈز جو کسی غیر ملکی حکومت، ملٹی نینشل یا پرائیویٹ کمپنی یا فرد سے حاصل کیے گئے ہوں وہ ممنوعہ فنڈز کے زمرے میں آتے ہیں۔ سیکشن 204 کے سب سیکشن چار کے تحت اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی سیاسی جماعت نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز اکھٹے کیے ہیں تو جتنی بھی رقم پارٹی کے اکاؤنٹ میں آئی ہے اس کو بحق سرکار ضبط کرنے کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں یا حکومتوں سے فنڈز حاصل کرنے والی جماعت پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی دفعہ 6 ممنوعہ رقوم کی ضبطی سے متعلق ہے۔ الیکشن کمیشن فیصلہ کرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے قبول کیے جانے والے عطیات آرٹیکل 6 کی شق تین کے تحت ممنوع ہیں۔ اس قانون کے تحت الیکشن کمیشن متعلقہ سیاستی جماعت کو نوٹس دینے اور اسے اپنا موقف دینے کا موقع دینے کے بعد اسے ضبط کرنے کا حکم دے گا اور یہ رقم کو سرکاری یا ذیلی خزانے کے اکاوٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ اس ایکٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی یا جن کو نیشل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نے نائیکوپ کارڈ جاری کیا ہے، ان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔