اجتماعی زیادتی کیس: آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا وطن واپس جانے سے انکار

اجتماعی زیادتی کیس: آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا وطن واپس جانے سے انکار
کیپشن: اجتماعی زیادتی کیس: آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا وطن واپس جانے سے انکار

ویب ڈیسک: لاہور ایئرپورٹ پر اجتماعی زیادتی کیس کی متاثرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا وطن واپس جانے سے انکار کردیا، جس پر اسے طیارے سے آف لوڈ کرکے انٹرنیشنل بریفنگ ہال منتقل کردیا گیا۔

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق 22 سالہ ڈیانا کو سیکیورٹی ادارے ایئرپورٹ لاؤنج میں لائے، جہاں امیگریشن کلیئرنس کے بعد وہ طیارے میں سوار ہوگئی، تاہم اچانک اس نے سفر سے انکار کردیا۔

ڈیانا کا مؤقف ہے کہ اسے دھوکے سے آذربائیجان واپس بھیجا جا رہا ہے اور وہ اپنی مرضی سے وطن واپس نہیں جانا چاہتی۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے سمجھانے کے باوجود انکار پر اسے طیارے سے آف لوڈ کرکے سیکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں بریفنگ ایریا منتقل کردیا گیا۔

عدالت میں 29 ستمبر کو ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق ڈیانا 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھی۔ وہ پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آئی، جہاں سے اسکردو جانے کا ارادہ تھا۔

بیان کے مطابق لاہور میں ڈیانا نے اپنی جان پہچان کی نمرہ اور مسکان سے رابطہ کیا۔ تینوں رات گئے ایک کیفے گئیں، جہاں کھانے کے بعد سفید رنگ کی گاڑی میں ایک اپارٹمنٹ پہنچیں۔ ڈیانا کے مطابق بعد میں وہاں دو نوجوان بھی آئے۔

عدالتی بیان میں ڈیانا نے الزام عائد کیا کہ نمرہ اور مسکان کے وہاں سے چلے جانے کے بعد اسے اپارٹمنٹ میں روک لیا گیا۔ اس کے مطابق ایک نوجوان نے اسے مبینہ طور پر دھمکایا اور بلیک میل کیا، جبکہ بعد ازاں محسن، احمد اور علی زین نے اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔

ڈیانا کے بیان کے مطابق ملزمان نے اس کا بیگ بھی اپنے پاس رکھ لیا، جس میں 2 لاکھ روپے نقدی اور دو موبائل فون موجود تھے، اور مبینہ طور پر پولیس سے شکایت نہ کرنے کی صورت میں بیگ واپس کرنے کی بات کی۔

بیان کے مطابق بعد ازاں احمد اور علی زین نے گاڑی سے ڈیانا کو باہر دھکا دے دیا، جس کے بعد اس نے وہاں موجود افراد سے پولیس کو اطلاع دینے کی درخواست کی۔ شہریوں کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

واضح رہے کہ زیادتی اور دیگر الزامات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں اور حتمی تعین عدالت کے فیصلے سے ہوگا۔

Watch Live Public News