(ویب ڈیسک) بھارتی حکومت کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے کے خلاف آزادی کی مسلح اور سیاسی تحریکیں شدت اختیار کر گئیں۔
حکومت نےناگا شہریوں کی سلامتی کو یقینی نہ بنایا تو وہ چین سے مدد مانگنے اور چینی پرچم لہرانے پر مجبور ہو جائیں گے۔
بی بی سی کے مطابق ناگا سول سوسائٹی کی تنظیم 'تھنگ کول آزے کٹمناؤ لونگ' کے صدر یار چوئسو کاشونگ کا نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں حساس علاقوں میں ناگا شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
ناگا برادری کا کہنا ہے کہ سرکاری حمایت یافتہ مسلح گروپ برما سے منی پور میں داخل ہو کر ناگا برادری پر خونریز حملے کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق منی پور کے 16 انتظامی اضلاع میں سے بیشتر کو "بدامنی کا شکار" قرار دے کر فوج کو خصوصی اختیارات دیے گیے ہیں۔
سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منی پور میں جاری نسلی و خونی فسادات کے نتیجے میں 60 ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے۔
بی بی سی کے مطابق ہزاروں مکانات جلا کر راکھ کر دیے گئے ۔
صحافی نینگ تھوکون کا کہنا ہے کہ برما کے ساتھ منی پور کی 400 کلومیٹر طویل غیر محفوظ سرحد کے راستے منظم دراندازی نے ریاست کے ڈیموگرافک توازن کو تباہ کردیا ۔
منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے اعتراف کیا کہ ریاست بدعنوان عناصر، منشیات کے تاجروں اور جنگجوؤں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ابھی تک ریاست میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ منی پور میں امن و امان کی خرابی کا باعث مودی حکومت ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق فروری 2026 سے 3 ستمبر تک کوکی-زو–ناگا تشدد میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہوئے. ہیومن رائٹس واچ نے برادریوں کو تحفظ دینے اور تشدد روکنے کے لیے بی جے پی کی زیرِ قیادت منی پور حکومت کے اقدامات کو ’’ناکافی‘‘ قرار دیا۔