دہلی میں بہیمانہ تشدد   سے منی پور سے تعلق راکھنے والے سنگروکرم سنگھ کی ہلاکت پر احتجاج

دہلی میں بہیمانہ تشدد   سے منی پور سے تعلق راکھنے والے سنگروکرم سنگھ کی ہلاکت پر احتجاج
کیپشن: دہلی میں بہیمانہ تشدد   سے منی پور سے تعلق راکھنے والے سنگروکرم سنگھ کی ہلاکت پر احتجاج

ویب ڈیسک: دہلی میں بہیمانہ تشدد   سے منی پور سے تعلق راکھنے والے سنگروکرم سنگھ کی ہلاکت پر احتجاج ہوا جس میں شمال مشرقی برادری نے نسلی تعصب کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
منی پور سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ گٹارسٹ اور موسیقی کے استاد چونگتھم وکرم سنگھ ستمبر 2026 میں دہلی میں اپنے گھر کے باہر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے کے بعد جان کی بازی ہار گئے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ رات گئے گھر سے صرف اس غرض سے باہر نکلے تھے کہ قریب موجود ڈیلیوری ورکرز اور ڈھابے کے عملے سے شراب نوشی، بلند آواز میں شور شرابا اور ہنگامہ آرائی بند کرنے کی درخواست کرسکیں۔
معمولی سی درخواست پر شروع ہونے والی تلخ کلامی مبینہ طور پر اچانک شدید تشدد میں بدل گئی اور حملہ آوروں نے انہیں لاتوں اور گھونسوں سے بری طرح زدوکوب کیا؛ شدید اندرونی اور جسمانی چوٹوں کے باعث وہ چند گھنٹوں بعد دم توڑ گئے۔
منی پوری برادری، شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے واقعے کے خلاف جنوب مشرقی دہلی میں شدید احتجاج کیا، جبکہ مظاہرین کی بڑی تعداد سن لائٹ کالونی پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوئی۔ شمال مشرقی برادری کے نمائندوں نے اس بہیمانہ اجتماعی تشدد کے پسِ پشت نسلی تعصب کے عنصر کی موجودگی کا سنگین الزام عائد کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس جرم کی تحقیقات محض ایک انفرادی جھگڑے یا قتل کے واقعے تک محدود نہ رکھی جائیں، بلکہ دہلی کے آشرم اور کلوکاری علاقوں میں مقیم شمال مشرقی شہریوں کو مبینہ طور پر درپیش مسلسل نسلی تعصب، امتیازی سلوک اور ہدف بنائے جانے کے وسیع تر تناظر میں بھی اس کا جائزہ لیا جائے۔

بھارت کے شمال مشرقی خطوں سے تعلق رکھنے والے شہری طویل عرصے سے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں نسلی تعصب، تضحیک آمیز القابات، ہراسانی اور بعض اوقات جسمانی تشدد کا سامنا کرنے کی شکایات کرتے آئے ہیں۔ “چِنکی”، “چائنیز” اور “مومو” جیسے توہین آمیز القابات محض الفاظ نہیں بلکہ اس سماجی رویے کی علامت سمجھے جاتے ہیں جس کے تحت مخصوص جسمانی خدوخال اور علاقائی شناخت رکھنے والے بھارتی شہریوں کو اپنے ہی ملک میں اجنبی یا غیر ملکی تصور کیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں شمال مشرقی شہریوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے متعدد پرتشدد واقعات، جن میں بعض جان لیوا حملے بھی شامل ہیں، اس برادری میں نسلی تعصب، سماجی اخراج اور ذاتی تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ منی پور سے تعلق رکھنے والے سنگر کے قتل  کے پسِ پشت نسلی محرک کی موجودگی ،اس وسیع تر حقیقت سے متعلق ان شکایات کو نمایاں کرتا کہ بھارت میں شمال مشرقی شہری خود کو بارہا امتیازی سلوک اور بیگانگی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔
بھارت کے قومی اتحاد اور آئینی مساوات کے دعوے اس وقت ایک سنگین سوالیہ نشان کی زد میں آ جاتے ہیں جب اسی ملک کے شمال مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہری قومی دارالحکومت میں بھی خود کو غیر محفوظ اور “اپنے ہی وطن میں اجنبی” محسوس کریں۔
وکرم سنگھ کی ہلاکت کو محض ایک الگ تھلگ سڑک کے جھگڑے تک محدود کرکے دیکھنا اس واقعے سے اٹھنے والے بڑے سوالات کو نظرانداز کرنا ہوگا؛ یہ سانحہ سماجی انضمام، نسلی تعصب، شہری تحفظ اور قانون کے مساوی نفاذ سے متعلق سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ واقعہ بالآخر بھارت کے قومی یکجہتی کے بیانیے اور شمال مشرقی شہریوں کے بیان کردہ زمینی تجربات کے درمیان موجود خلیج کو نمایاں کرتا ہےایک ایسی خلیج جس میں شناخت، تحفظ اور مساوی شہری حیثیت کے بنیادی سوالات آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔

Watch Live Public News