سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر قتل کی دھمکی، ایف بی آئی ، کینیڈین پولیس کا سکیورٹی الرٹ جاری 

سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر قتل کی دھمکی، ایف بی آئی ، کینیڈین پولیس کا سکیورٹی الرٹ جاری 

(ویب ڈیسک) سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو امریکی ایف بی آئی اور کینیڈا کی رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے ایک نئے اور قابلِ اعتبار جان لیوا خطرے سے آگاہ کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایف بی آئی کے اہلکار گزشتہ جمعرات کو ان سے ملے اور انہیں ہدایت کی کہ خطرہ ختم ہونے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں، جبکہ کسی ناگزیر سفر کی صورت میں پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے منصوبے سے آگاہ کریں۔ کینیڈین پولیس نے بھی منگل کو ٹیلی فون پر انہیں خطرے سے متعلق خبردار کیا۔

حکام نے نئے مبینہ منصوبے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ امریکی قانون کے تحت ’’ڈیوٹی ٹو وارن‘‘ کے اصول کے مطابق جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی فرد کے خلاف قتل، شدید جسمانی نقصان یا اغوا جیسے قابلِ اعتبار اور مخصوص خطرے کا علم ہو تو اسے خبردار کیا جاتا ہے۔

یہ تازہ سکیورٹی الرٹ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی شہری نکھل گپتا امریکی عدالت میں پَنوں کو قتل کرنے کی 2023 کی مبینہ سازش میں اپنا کردار تسلیم کر چکا ہے۔ گپتا نے فروری 2026 میں وفاقی سازش کے الزامات میں جرم قبول کیا تھا اور اب اسے نیویارک کی وفاقی عدالت میں 20 نومبر 2026 کو سزا سنائی جائے گی۔

گرپتونت سنگھ پنوں جو امریکی اور کینیڈین دونوں شہریت رکھتے ہیں، سکھوں کے لیے ایک آزاد ریاست ’’خالصتان‘‘ کے قیام کی مہم کی حمایت کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت انہیں دہشت گرد قرار دے چکی ہے، جبکہ پنوں اپنے سیاسی و انسانی حقوق کے مؤقف کو پرامن جدوجہد قرار دیتے ہیں۔

پَننُون نے نئے خطرے کے باوجود کہا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ 

ان کے خلاف مبینہ قتل کی سازش کا معاملہ پہلے ہی واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی تعلقات کے لیے ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد بھی بھارت پر اسی نوعیت کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔

Watch Live Public News