منی پور پھر تشدد کی لپیٹ میں — تازہ خونریزی نے مودی حکومت  کے  سکیورٹی  کے جھوٹے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا

منی پور پھر تشدد کی لپیٹ میں — تازہ خونریزی نے مودی حکومت  کے  سکیورٹی  کے جھوٹے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا
کیپشن: منی پور پھر تشدد کی لپیٹ میں — تازہ خونریزی نے مودی حکومت  کے  سکیورٹی  کے جھوٹے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا

ویب ڈیسک: منی پور پھر تشدد کی لپیٹ میں — تازہ خونریزی نے مودی حکومت  کے  سکیورٹی  کے جھوٹے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا۔
منی پور کے پہاڑی اضلاع ایک بار پھر فائرنگ، ہلاکتوں اور آتش زنی سے لرز اٹھے ہیں، جہاں کوکی-زو اور ناگا برادریوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران کانگ پوکپی، تامنگ لونگ اور ملحقہ علاقوں میں متعدد دیہات تشدد کی زد میں آئے ہیں۔ گھروں اور املاک کو نذرِ آتش کیا گیا، شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ حملوں اور جوابی حملوں کے باعث پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔  کوکی برادری کے دو دیہات پر حملے کیے گئے، جبکہ جھڑپوں میں ایک 35 سالہ کوکی الیکٹریشن مبینہ طور پر ہلاک ہو گیا۔ منی پور تشدد  ایک وقتی امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل انسانی اور سکیورٹی بحران بن چکا ہے۔
 ہیومن رائٹس واچ کے مطابق فروری 2026 سے 3 ستمبر تک کوکی-زو–ناگا تشدد میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہوئے. ہیومن رائٹس واچ نے دونوں برادریوں کو تحفظ دینے اور تشدد روکنے کے لیے بی جے پی کی زیرِ قیادت منی پور حکومت کے اقدامات کو ’’ناکافی‘‘ قرار دیا۔   تازہ خونریزی اس بڑے بحران کا تسلسل ہے جو مئی 2023 سے منی پور کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اور جس میں سینکڑوں جانیں جا چکی ہیں جبکہ دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
 تین سال سے زائد عرصے کے تشدد، مسلسل سکیورٹی تعیناتیوں اور بار بار امن کے وعدوں کے باوجود منی پور میں خونریزی کا دوبارہ بھڑک اٹھنا مودی حکومت اور بی جے پی انتظامیہ کی ناکامی ہے۔
بنیادی سوال بدستور موجود ہے: اتنے طویل بحران، سکیورٹی آپریشنز اور حکومتی اقدامات کے باوجود شہریوں اور متاثرہ برادریوں کو پائیدار تحفظ کیوں نہیں مل سکا؟

Watch Live Public News