کسی مائی کے لعل میں عدم اعتماد لانے کی جرات نہیں

کسی مائی کے لعل میں عدم اعتماد لانے کی جرات نہیں
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپوزیشن کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ”پاکستان کرپشن لمیٹڈ پارٹی” کی ایک بیٹھک ہوئی۔ جس میں اعلان کیا گیا ہے ہم حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لا رہے ہیں۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ میں اپوزیشن جماعتوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ تھوڑی جرات کریں اور کل ہی تحریک عدم اعتماد لے آئیں تاکہ آپ کو پتا چل سکے کہ سبزی دال کا بھائو کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے ان کا خیال ہے کہ 18 فروری کو ان کے اوپر لگنے والی فردم جرم کی تاریخ آگے چلی جائے گی۔ یقیناً ایسا نہیں ہوگا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ بارے ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پہلے دن سے سمجھتے ہیں کہ وہ حکومت کو گھر بھیج دیں گے۔ لیکن ان کے بازوئوں میں وہ طاقت ہی نہیں ہے۔ آج ان کی گفتگو سے کمزوری کا اظہار ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پی ڈی ایم کو چیلنج کرتا ہوں کہ کل ہی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں۔ آپ کو تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی بلکہ اپوزیشن کے ممبرز تک سرپرائز دیں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ کسی مائی کے لعل میں اتنی جرات ہی نہیں کہ وہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لا سکے۔ آپ لوگ تو سیاست میں وہ چوہے ہیں جن کا خیال ہے کہ چھت پر آواز آئے گی تو زیادہ دوڑیں گے تو ہم بچ جائیں گے۔ https://twitter.com/FawadPTIUpdates/status/1492183049542455296?s=20&t=5io2sBHNJ9SKquvTqfXCUg خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کے سربراہی اجلاس میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے زیر صدارت اپوزیشن اتحاد کا اجلاس ہوا جس میں شہباز شریف سمیت شریک ہوئے جبکہ لندن سے سابق وزیراعظم نواز شریف بھی آن لائن شرکت کی۔ سربراہی اجلاس میں لانگ مارچ اور عدم اعتماد سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے اور حکومت کی حلیف جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے گراؤنڈ بنائیں گے پھر تحریک عدم اعتماد لائیں گے اور وفاق سے لے کرصوبوں تک جہاں ہوسکا عدم اعتماد لائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس سے پہلے مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کی ملاقات ہوئی۔ صدر ن لیگ نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ہوئی بات چیت پر اعتماد میں لیا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے عدم اعتماد پر اتفاق کیا ہے۔