متنازع شہریت قانون، بھارت نے پاکستانی ہندؤوں سمیت 14 تارکین وطن کو شہریت دیدی

6 pakistani got indian citizenship
کیپشن: 6 pakistani got indian citizenship
سورس: google

ویب ڈیسک : بھارت نے متنازع شہریت قانون کے تحت پہلی مرتبہ 14 تارکینِ وطن کو شہریت کی دستاویزات حوالے کر دی گئی ہیں۔ 6 پاکستانی ہندو بھی شامل ۔

نئی دہلی میں بدھ کو تقریب کے دوران سیکریٹری داخلہ اجے کمار بھالا نے تارکینِ وطن کو شہریت کے سرٹیفکیٹس دیے جب کہ بھارت کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تارکینِ وطن کی دستاویزات کی تصدیق کے بعد ان سے وفاداری کا حلف لیا گیا اور انہیں شہریت کے سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں۔

البتہ وزارتِ داخلہ نے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ تارکینِ وطن کا تعلق کس ملک اور کس مذہب سے ہے۔

ذرائع کے مطابق 6 پاکستانی ہندؤوں کو بھارت کی شہریت دی گئی ہے جو پاکستان چھوڑ کر بھارت آباد ہونا چاہتے ہیں۔

بھارت میں 2019 میں شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا تھا جس کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھارت منتقل ہونے والے ایسے افراد بھارتی شہریت کے اہل ہیں جو اپنے ملک میں ہندو، پارسی، سکھ، بودھ، جین اور مسیح مذہب سے تعلق رکھنے کی بنا پر ظلم و ستم کا شکار تھے۔

وزیرِ اعظم مودی کی حکومت نے عام انتخابات سے ایک ماہ قبل ہی شہریت قانون کو نافذ کیا تھا۔ اب اس قانون کے تحت ایسے موقع پر تارکینِ وطن کو شہریت کے سرٹیفکیٹس دیے گئے ہیں جب بھارت میں عام انتخابات کا آدھا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انتخابی مہم کے دوران مذہبی تقسیم واضح دکھائی دے رہی ہے۔

متنازع شہریت قانون کے تحت بھارتی شہریت انہی لوگوں کو مل سکتی ہے جو 31 دسمبر 2014 سے پہلے اپنا ملک چھوڑ کر بھارت منتقل ہوئے تھے۔

اس قانون کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور احتجاج کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد حکومت نے فوری طور پر شہریت قانون پر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔

  متنازع شہریت قانون کے مخالفین اسے مسلمانوں کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ تاہم وزیرِ اعظم مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس کی تردید کرتی رہی ہے۔

بھارت میں لگ بھگ 20 کروڑ مسلمان آباد ہیں جو دنیا بھر میں مسلمانوں کی تیسری بڑی تعداد ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں وزیرِ اعظم مودی کی حکومت اور ان کی جماعت بی جے پی پر تنقید کرتی ہیں کہ وہ ہندوتوا نظریے کو آگے بڑھانے کے لیے اقلیتوں کے ساتھ منظم طریقے سے امتیازی سلوک کرتی ہیں۔