(ویب ڈیسک) یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر یوناما کی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔
یوناما کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے اقتدار میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کو 5 سال مکمل، چھٹی جماعت سے آگے تعلیم بدستور بند ہے،تین ماہ میں امر بالمعروف اہلکاروں کی جانب سے حجاب کے نام پر خواتین کی گرفتاری اور حراست کے 50 سے زائد واقعات ریکارڈ ہوئے۔ طالبان رجیم کی جانب سے 3 ماہ کے دوران 28 افراد کوکوڑوں کی سزا دی گئی، سزا پانے والوں میں 6 خواتین بھی شامل ہیں ۔
یوناما کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حجاب نہ کرنے والی خواتین کو مجرم قرار دے دیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے دفاتر میں کام کو خواتین کا حق ماننے سے انکار کر دیا۔ہرات میں چادر نہ اوڑھنے پر 10 خواتین گرفتار، 13 سالہ بچی کو بھی رات بھر حراست میں رکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 12 سالہ بیٹی کے برقع نہ پہننے پر طالبان رجیم کے اہلکاروں نے باپ کو بازار سے حراست میں لے لیا،پروان میں محرم کے بغیر آنے والی 2 خواتین کو طبی مرکز میں داخلے سے روک دیا گیا۔ افغان خواتین کے اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلے پر پابندی بدستور جاری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے باوجود وطن واپس آنے والے سابق افغان حکومتی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی گرفتاریاں اور قتل جاری ہے ۔ طالبان رجیم نے کابل میں شیعہ مسلک سے وابستہ 7 ادارے بند کر دیے، جن میں طبی مرکز، تعلیمی ادارے، مدارس اور مسجد شامل ہیں ۔کابل میں شیعہ مسلک سے وابستہ جامعہ خاتم النبیین کے6 اساتذہ سمیت 28 ملازمین گرفتار، طلبہ بے دخل اور جامعہ بند ہے۔جامعہ خاتم النبیین کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا ۔