’افغان آرمی لڑی ہی نہیں،کیا یہ بھی ہمارا قصور ہے؟‘

’افغان آرمی لڑی ہی نہیں،کیا یہ بھی ہمارا قصور ہے؟‘

دوشبنے: (پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ طالبان ایک حقیقت ہیں، افغانستان اس وقت تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے،امریکا کےطالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے مسائل بڑھیں گے.

روسی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا پاکستان ہمسایہ ملک میں امن کا خواہشمند ہے،ہمیں افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانے کی باتیں افسوسناک ہیں،انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کا اقدام واپس لینے تک بھارت سے معمول کے تعلقات کی بحالی ممکن نہیں.

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشتگردی کا بھی خطرہ ہے، انخلاء سے دو ہفتے قبل افغان آرمی ہتھیار ڈال دیتی ہے، یہ کیسے ہوا کہ 3 لاکھ افغان فوج لڑی ہی نہیں، کیا پاکستان نے انہیں لڑنے سے منع کیا تھا۔اس وقت امریکا کی افغانستان کے معاملے پر ایک مربوط پالیسی ہے یا نہیں، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے نیک نیتی کے ساتھ پوری کوشش کی ہمارے تعلقات بھارت سے اچھے ہو جائیں، مگر بدقسمتی سے بھارت میں اس وقت ایک دہشتگرد نظریے کی حکومت ہے۔ جو پاکستان مخالف نظریہ رکھتے ہیں اور جارحانہ رویے کے حامل ہیں.

مصنّف پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے فارغ التحصیل ہیں اور دنیا نیوز اور نیادور میڈیا سے بطور اردو کانٹینٹ کریٹر منسلک رہے ہیں، حال ہی میں پبلک نیوز سے وابستہ ہوئے ہیں۔