’امریکہ کی واپسی پر افغان امن کا ذمہ دار صرف پاکستان نہیں‘

’امریکہ کی واپسی پر افغان امن کا ذمہ دار صرف پاکستان نہیں‘

اسلام آباد ( پبلک نیوز) پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا ہونے کے بعد افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اکیلا پاکستان ذمہ دار نہیں ہو گا۔ اس ذمہ داری کا بوجھ صرف پاکستان کے کندھوں کیسے ڈالا جا سکتا ہے۔

ترک میڈیا کو دیئے گئے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ خطہ میں غربت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، ایشیا میں اقتصادی ترقی کے وسیع امکانات ہیں۔ افغانستان میں بدامنی کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ ایشیائی خطہ مسلح تنازعات کی زد میں ہے۔

اگر ہم ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں تو علاقائی روابط کا فروغ ضروری ہے۔ تاپی گیس اور کاسا 1000 منصوبہ خطے کے لیے اہم ہے۔ افغانستان میں بدامنی کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔

خطےمیں استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کا حل ضروری ہے۔ ایشیائی خطہ مسلح تنازعات کی زد میں ہے۔ ہمیں خطےمیں باہمی تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔ ایشیا میں نئی سردجنگ کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے سی پیک ایک اہم منصوبہ ہے۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے علاقائی تعاون کی تنظیم سارک مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ گودر بندرگاہ، افغانستان اور وسط ایشیائی ملکوں کے لیے علاقائی اور عالمی تجارت کا راستہ کھولتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایشیا میں امن وامان کے لیے عالمی سطح پر انصاف کی بنیاد پر نظام ضروری ہے۔

شازیہ بشیر نےلاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 42 نیوز اور سٹی42 میں بطور کانٹینٹ رائٹر کام کر چکی ہیں۔