ہاروی وائنسٹین کو جنسی زیادتی کے جرم میں 15 سال قید

ہاروی وائنسٹین کو جنسی زیادتی کے جرم میں 15 سال قید
کیپشن: ہاروی وائنسٹین کو جنسی زیادتی کے جرم میں 15 سال قید

ویب ڈیسک: نیویارک کی عدالت نے ہالی ووڈ کے سابق فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹین کو 2006 میں سابق ٹی وی پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنا دی۔

74 سالہ وائنسٹین کو دوبارہ مقدمے کی سماعت کے بعد مریم ہیلی کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ وہ اپنی بے گناہی پر قائم ہیں۔

سزا سنائے جانے سے قبل مریم ہیلی نے عدالت کو بتایا کہ واقعے نے ان کی زندگی اور تحفظ کے احساس کو شدید متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے حصول کے دوران انہیں دوبارہ ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا۔

وائنسٹین نے عدالت میں مریم ہیلی کو پہنچنے والے درد پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ وہ وہیل چیئر پر عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ سزا وائنسٹین کے خلاف کئی سال سے جاری قانونی کارروائی کا تازہ مرحلہ ہے۔ انہیں 2020 میں نیویارک میں مریم ہیلی کے ساتھ جنسی جرم اور دوسری خاتون جیسیکا مان کے ساتھ زیادتی کے جرم میں مجموعی طور پر 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم 2024 میں نیویارک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ان کی سابقہ سزا ختم کرتے ہوئے نئے مقدمے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ مقدمے میں ایسے الزامات سے متعلق گواہیاں بھی شامل کی گئی تھیں جو براہِ راست زیرِ سماعت مقدمے کا حصہ نہیں تھیں۔

دوبارہ مقدمے میں جیوری نے مریم ہیلی سے متعلق الزام میں وائنسٹین کو مجرم قرار دیا، جبکہ دوسری خاتون کاجا سوکولا سے متعلق الزام میں انہیں بری کردیا گیا۔ جیسیکا مان سے متعلق زیادتی کے الزام پر جیوری کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت سے وائنسٹین کو 20 سال قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی، جبکہ ان کے وکیل نے عمر، صحت کے مسائل اور پہلے سے گزارے گئے قید کے عرصے کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سزا کی استدعا کی۔

وائنسٹین کے خلاف 2017 میں جنسی زیادتی اور ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ’می ٹو‘ تحریک کو عالمی سطح پر نمایاں تقویت ملی۔ کبھی ہالی ووڈ کی بااثر شخصیات میں شمار ہونے والے وائنسٹین نے ’پلپ فکشن‘ اور ’شیکسپیئر اِن لو‘ سمیت متعدد معروف فلمیں پروڈیوس کی تھیں۔

نیویارک کیس کے علاوہ وائنسٹین کو کیلیفورنیا میں بھی جنسی زیادتی کے ایک الگ مقدمے میں سزا ہوچکی ہے، جس کے خلاف ان کی قانونی کارروائی جاری ہے۔

Watch Live Public News