پاکستان میں عوامی امنگوں کی عکاس حکومت دیکھنا چاہتے ہیں، امریکا

mathew miller
کیپشن: mathew miller
سورس: google

ویب ڈیسک: امریکا نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں ایسی حکومت حکومت دیکھنا چاہتا ہے جو عوام کی امنگوں کی عکاس ہو۔

منگل کو واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران جب دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے پوچھا گیا کہ دھاندلی کی وسیع شکایات کے دوران پاکستان میں دو بڑی جماعتیں حکومت بنانے جا رہی ہیں، کیا امریکا نئی حکومت کو خوش آمدید کہے گا یا پھر چاہتا ہے کہ حکومت بننے سے قبل تحقیقات کی جائیں؟

اس کے جواب میں میتھیو ملر نے کہا ’حکومت سازی پاکستان کا معاملہ ہے جو پاکستانی انجام دیتے ہیں۔ ہم اس میں فریق نہیں ہیں اور اس میں کوئی ایسی ضروری بات نہیں ہے کہ جس پر تبصرہ کیا جائے۔‘
’ہم پاکستان میں عوام کی امنگوں کی عکاس حکومت دیکھنا چاہتے ہیں۔‘  
پاکستان کے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ان کی تحقیقات کی جائے اور اس معاملے کو جس قدر جلدی ممکن ہو نمٹا دیا جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر کام کر رہا ہے جس پر ماضی میں امریکا تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے کیا وہ ابھی موجود ہیں؟
اس کا واضح جواب دینے کے بجائے میتھیو ملر نے فقط اتنا کہا کہ معلومات حاصل کرنے کے بعد اس کا جواب دیں گے۔
انڈیا میں جاری احتجاج کرنے والے کسانوں پر حکومت کی جانب سے پیلٹس فائرنگ اور ڈرونز کے ذریعے آنسو گیس کی شیلنگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر میتھیو ملر نے واضح کیا کہ انہوں نے ایسی کوئی رپورٹ نہیں دیکھی، اور اس پر وہ بعد میں بات کریں گے۔