آئی ایم ایف کا بجلی تقسیم کارکمپنیوں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار

آئی ایم ایف کا بجلی تقسیم کارکمپنیوں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار
اسلام آباد: ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا تیسرا روز شروع ہوگیا ہے، تکنیکی مذاکرات مکمل ہونے پر پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ڈسکوز کے 100 فیصد بل وصولی میں ناکامی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان سے 4100 ارب روپے کا گردشی قرض ختم کرنے کا پلان طلب کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنائے بغیر گردشی قرض کا خاتمہ ممکن نہیں،100 فیصد بل وصولی کے بغیر پاور سیکٹر کا گردشی قرض ختم نہیں ہو سکتا، آئی ایم ایف نے 3 ڈسکوز کے علاوہ دیگر تمام ڈسکوز کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیدی۔ پاکستان کو ڈسکوز کی طرف سے بجلی بل وصولی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے گردشی قرض مینجمنٹ پلان کے اہداف، بجلی ٹیرف میں سبسڈی ختم کرنے اور صنعتی شعبے کی ٹیرف سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔