ویب ڈیسک: سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھی ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے لیے مخصوص نام استعمال کرتے ہیں، بالکل انسانوں کی طرح۔ تحقیق کے مطابق ہاتھی ان جانوروں کی آوازوں کی نقل کیے بغیر انہیں مخصوص پکار کے ذریعے پہچانتے ہیں۔
تحقیق کے لیے کینیا کے سمبورو نیشنل ریزرو اور امبوسیلی نیشنل پارک میں 1986 سے 2022 کے دوران ریکارڈ کی گئی افریقی سوانا ہاتھیوں کی آوازوں کا تجزیہ کیا گیا۔ مشین لرننگ کی مدد سے 469 پکاروں کا جائزہ لیا گیا، جن میں 101 ہاتھیوں نے آوازیں نکالیں جبکہ 117 ہاتھیوں کو مخاطب کیا گیا تھا۔
محققین کے مطابق جب ہاتھیوں کو ان کے لیے مخصوص پکاروں کی ریکارڈنگ سنائی گئی تو انہوں نے پُرجوش ردِعمل ظاہر کیا، جبکہ دوسرے ہاتھیوں کے لیے کی جانے والی پکاریں سننے پر ان کا ردِعمل نسبتاً کم تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاتھی اپنی ذات کے لیے کی جانے والی پکار کو پہچان سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بالغ ہاتھی، بچوں کے مقابلے میں، مخصوص نام زیادہ استعمال کرتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صلاحیت سیکھنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
تحقیقی جریدے نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق، ڈولفن اور طوطے بھی ایک دوسرے کو آوازوں کے ذریعے مخاطب کرتے ہیں، تاہم ہاتھیوں میں اپنی آواز کی نقل کیے بغیر دوسروں کے لیے مخصوص نام استعمال کرنے کی صلاحیت سامنے آئی ہے۔ یہ دریافت ہاتھیوں کی ذہانت اور ان کے پیچیدہ سماجی رابطوں کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے۔