دنیا کے امیر ترین  شخص ایلون مسک کی ہوش اڑا دینے والی نئی پیشگوئی

دنیا کے امیر ترین  شخص ایلون مسک کی ہوش اڑا دینے والی نئی پیشگوئی

(ویب ڈیسک)دنیا کے امیر ترین شخص، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے مستقبل کی معیشت اور انسانی طرزِ زندگی کے حوالے سے ایک اور حیران کن پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور روبوٹکس کے عروج کے بعد پیسے بچانے کی فکر بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔

ایکس پر صارفین کے مابین موجودہ دور کے مالیاتی فیصلوں اور بچت پر جاری بحث کے دوران ایلون مسک نے کہا کہ مستقبلِ بعید میں پیسوں کی فکر اور بچت کرنا لاحاصل ہوگا۔

ان کے مطابق مشینیں اور جدید روبوٹس اتنی کثرت سے سامان اور خدمات تیار کریں گے کہ انسانوں کو اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے روایتی کام یا ملازمت کرنے کی حاجت ہی نہیں رہے گی، جس سے آمدنی اور مالیاتی منصوبہ بندی کے روایتی نظریات مکمل طور پر بدل جائیں گے۔

اس سے قبل جولائی 2026 میں ایک انٹرویو کے دوران بھی ایلون مسک نے واضح کیا تھا کہ سال 2036 تک روایتی دولت کا وجود بے معنی ہو جائے گا کیونکہ اے آئی اور انسان نما روبوٹس پروڈکشن کے عمل کو بے پناہ تیز، سستا اور آسان بنا دیں گے۔

جدید ٹیکنالوجی سے ہر قسم کی سروسز اور اشیا کی لاگت انتہائی کم ہو جائے گی اور افادیت و دستیابی میں ریکارڈ اضافہ ہوگا۔

ایلون مسک نے دعویٰ کیا کہ اگلے 5 برسوں کے اندر اندر اے آئی ٹیکنالوجی مجموعی طور پر تمام انسانوں سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔

تیز رفتار ترقی کے باعث مشینیں بہت جلد انسانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دیں گی اور وہ تمام پیچیدہ کام سنبھال لیں گی جو فی الوقت انسان انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے اے آئی کو تاریخ انسانی کے رخ کو موڑ دینے والی اہم ترین ٹیکنالوجی قرار دیا اور کہا کہ ان اختراعات سے معاشرے میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا اور دنیا مکمل طور پر روبوٹک معیشت پر منتقل ہو جائے گی۔

Watch Live Public News