افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھانے لگا: امریکی جریدہ

 افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھانے لگا: امریکی جریدہ
کیپشن:  افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھانے لگا: امریکی جریدہ

ویب ڈیسک: امریکی جریدے ریئل کلیئر ڈیفنس کے مطابق افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا جدید اسلحہ پاکستان میں حملے کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔

جریدے کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے وقت افغانستان میں 7.12 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی سازوسامان موجود تھا، جس میں 3 لاکھ سے زائد ہتھیار، 40 ہزار سے زیادہ فوجی گاڑیاں اور 78 طیارے شامل تھے۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کمانڈرز جدید امریکی ہتھیار فتنۃ الخوارج کو فراہم کر رہے ہیں، جبکہ اسلحے کی بلیک مارکیٹ بھی دہشت گردوں تک ہتھیار پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ان ہتھیاروں میں جدید رائفلز، اسنائپر رائفلز اور نائٹ وژن آلات شامل ہیں۔

جریدے کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والے 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز کا امریکی اسلحہ سپلائرز سے تعلق سامنے آیا، جبکہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں سے امریکی ساختہ M4A1 رائفلز بھی برآمد ہوئیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی، جدید اسلحے تک رسائی اور سرحد پار پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔ جریدے نے امریکا اور علاقائی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی اسلحے کی تجارت، اس کی مالی معاونت اور ترسیلی نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ اقدامات کریں۔

Watch Live Public News