ویب ڈیسک: وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ تہران میں پاکستان کے کسی دفاعی معاہدے پر بات چیت نہیں ہو رہی تھی، بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن کے قیام اور فریقین کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنے کے لیے گئے تھے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تہران میں ہونے والی سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کے دفاع یا کسی نئے دفاعی معاہدے پر بات چیت کرنا نہیں تھا، بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے امکانات پیدا کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں امن کی صورتِ حال مزید واضح ہو سکتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے، جبکہ قطر، ترکیہ، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان بھی دفاعی معاہدوں کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق تہران میں ہونے والی سرگرمیاں وزارتِ دفاع کے دائرۂ کار سے متعلق نہیں تھیں۔
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام ہے اور ان کے والد بھی ایک نمایاں شخصیت تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امن کوششوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عالمی سطح پر پاکستان اور اس کی عسکری قیادت کی امن کوششوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ احترام، تحمل اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ حکومتوں میں شامل رہی ہیں اور باہمی تعاون بھی کرتی رہی ہیں، اس لیے سیاسی اختلافات کو اس انداز میں پیش نہیں کرنا چاہیے جس سے باہمی احترام مجروح ہو۔
وزیر دفاع نے فوجی حکمرانی سے متعلق اپنے ماضی کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی 2004 کی تقریر کو اس وقت کے سیاسی اور آئینی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ انتخابی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور انتخابات پر اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمانی نظام کے استحکام اور قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔