(ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، حوثیوں کے سعودی عرب پر مسلسل حملوں اور امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ عسکری کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر ایرانی دارالحکومت تہران اس وقت اہم ترین علاقائی سفارتکاری کا مرکز بن گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان تہران پہنچ چکے ہیں۔ ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی (MIT) کے سربراہ ابراہیم کالن بھی اہم ترین سفارتی مشن پر تہران میں موجود ہیں۔
سعودی دفاعی وفد کو لے جانے والا خصوصی سی ون تھرٹی (C-130) طیارہ اور سعودی حکومت سے منسلک ایئربس اے 320 مہرآباد ایئرپورٹ پر لینڈ کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کثیر القومی مذاکرات کا مرکزی فوکس سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری جنگ کا فوری خاتمہ اور تہران کی جانب سے دونوں فریقین میں ثالثی کی پیشکش پر پیش رفت ہے۔
اجلاس حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حالیہ مسلسل حملوں کے پس منظر میں طلب کیا گیا ہے۔
ان انتہائی اہم اور بند کمرہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت صدر مسعود پزیشکیان بذاتِ خود کریں گے۔بات چیت کے عمل میں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی بھی شریک ہوں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا ہے کہ اس اہم کثیر القومی اجلاس کے انعقاد کی باضابطہ درخواست پاکستان کی جانب سے کی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران خطے کی مجموعی سیکیورٹی، اسرائیل، لبنان، فلسطین اور یمن کے اہم ترین تنازعات اور سیکیورٹی معاملات بھی تفصیلی طور پر زیرِ بحث آئیں گے۔