ویب ڈیسک: سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی وفات کے بعد 1993 کے سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے پیش کیا گیا ’کاکڑ فارمولا‘ ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔
18 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(b) کے تحت وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے بعد ازاں حکومت بحال کردی، تاہم وزیراعظم اور صدر کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔
اس سنگین سیاسی بحران کے دوران جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف دونوں اپنے عہدوں سے الگ ہونے پر آمادہ ہوئے، جبکہ قومی اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا راستہ ہموار ہوا۔ اس سیاسی حل کو ’کاکڑ فارمولا‘ کہا جاتا ہے۔
فارمولے کے تحت غیر جانب دار نگران حکومت کے قیام اور نئے عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔ 6 اکتوبر 1993 کو انتخابات منعقد ہوئے، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 89 جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 73 نشستیں حاصل کیں۔
انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم بنیں، تاہم ان کی حکومت بھی اپنی آئینی مدت مکمل نہ کرسکی۔ نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت برطرف کردی، جس کے بعد 1997 میں نئے عام انتخابات ہوئے۔