ویب ڈیسک: وزیرِاعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے غیر رسمی ملاقات کی اور انہیں سیاسی و آئینی معاملات پر دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی۔
ذرائع کے مطابق، وزیرِاعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری میں ایک سال سے جاری تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم آئینی معاملہ ہے، جسے سیاست سے بالاتر ہو کر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے محمود اچکزئی پر زور دیا کہ تقرریوں کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
ملاقات کے دوران محمود اچکزئی وزیرِاعظم کی بات سنتے اور اثبات میں سر ہلاتے دکھائی دیے۔ شہباز شریف کے روانہ ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے بھی ان سے خوشگوار انداز میں گفتگو کی۔
دوسری جانب، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد منظور کر لی گئی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 57 ووٹ آئے۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تفصیلی بحث مکمل ہو چکی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 کا سہارا لیا تھا، جس کی پارلیمانی توثیق آئینی تقاضا ہے۔