مولانا فضل الرحمٰن کو سیاسی تنہائی کا سامنا، ملتان خطاب پر ملکی سیاسی قیادت کا ردعمل جاری

مولانا فضل الرحمٰن کو سیاسی تنہائی کا سامنا، ملتان خطاب پر ملکی سیاسی قیادت کا ردعمل جاری
کیپشن: مولانا فضل الرحمٰن کو سیاسی تنہائی کا سامنا، ملتان خطاب پر ملکی سیاسی قیادت کا ردعمل جاری

ویب ڈیسک: چاروں صوبوں سے سیاسی رہنماؤں کی سوشل میڈیا پوسٹس سامنے آگئیں، قومی سلامتی، دفاعی اداروں اور شہداء کی قربانیوں کو سیاسی مباحثے سے دور رکھنے پر زور دیا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ملتان میں خطاب پر مختلف سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آگیا۔ سیاسی رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیانات میں مولانا فضل الرحمٰن کے قومی سلامتی سے متعلق مؤقف، سیاسی بیانات اور مبینہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر تنقید کی، جبکہ قومی خودمختاری، دفاعی اداروں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں کے احترام پر زور دیا۔

بلوچستان کے صوبائی وزیر میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سیاسی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور ملکی خودمختاری کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپنے بیان میں کہا کہ قومی سلامتی پر سیاسی مفادات کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے دہشت گردی کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

بلوچستان کی سیاسی رہنما فرح عظیم شاہ نے کہا کہ سیاسی قیادت کے ہر لفظ سے ذمہ داری اور حب الوطنی جھلکنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور امن سے بڑھ کر کوئی سیاسی مفاد نہیں۔

صحافی و سیاسی مبصر حذیفہ رحمٰن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی ناکامیوں کا ملبہ قومی اداروں پر ڈالنا نہ جمہوریت کی خدمت ہے اور نہ آئین کی بالادستی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ افواج پاکستان کو سیاسی تنازعات میں شامل کرکے کس قومی مفاد کی خدمت کی جا رہی ہے۔

بلوچستان کے سیاسی رہنما کہودا بابر بلوچ نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کے حصول کے لیے شارٹ کٹ تلاش کرنے کے بجائے انتخابی عمل کا انتظار کیا جائے، کیونکہ عوامی حمایت اصولی سیاست سے حاصل ہوتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے سیاسی مؤقف کے مطابق تاریخ کو نئے انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو جمہوریت کے معاملے میں مولانا فضل الرحمٰن سے سبق لینے کی ضرورت نہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما ثمر ہارون بلور نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات اور الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی طور پر غیر متعلق افراد کے بیانیے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں کان کنی کے مبینہ اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقائق سامنے آنے پر الزام لگانے والوں کو بھی جواب دینا پڑے گا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں، تاہم قومی سلامتی اور دفاعی افواج کی قربانیوں کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے قومی اتحاد اور استحکام کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

سینیٹر بہرہ مند تنگی نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات کو اقتدار سے محرومی کی مایوسی سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ذاتی مفادات اور پلاٹوں و زمین سے متعلق مبینہ فوائد کی سیاست اب نہیں چلے گی۔

سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک سینئر سیاست دان ہیں اور ان کے حالیہ بیانات سے دکھ ہوا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کی قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیا۔

انجینئر محمد عالم شریف نے گورنر راج سے متعلق تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ماضی کے سیاسی کردار سے متعلق اٹھنے والے سوالات ختم نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کوئی مالِ غنیمت نہیں بلکہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی بحالی اور ترقی کا عمل ہے۔

مختلف سیاسی رہنماؤں کے ان بیانات میں قومی سلامتی، دفاعی اداروں کے کردار، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سیاسی اختلافات کے اظہار کے طریقۂ کار پر زور دیا گیا۔ تاہم یہ بیانات متعلقہ رہنماؤں کے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

Watch Live Public News