ایپل اور میٹا کے درمیان اہم اشتراک، طاقتور اے آئی ماڈل میک کمپیوٹرز پر چلانے کی تیاری

 ایپل اور میٹا کے درمیان اہم اشتراک، طاقتور اے آئی ماڈل میک کمپیوٹرز پر چلانے کی تیاری
کیپشن:  ایپل اور میٹا کے درمیان اہم اشتراک، طاقتور اے آئی ماڈل میک کمپیوٹرز پر چلانے کی تیاری

ویب ڈیسک: ٹیکنالوجی کی دنیا کے دیرینہ حریف ایپل اور میٹا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس اشتراک کا مقصد میٹا کے طاقتور اوپن ویٹ اے آئی ماڈل کو ایپل کے جدید میک کمپیوٹرز پر مقامی طور پر چلانا ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، یہ تعاون دونوں کمپنیوں کے تعلقات میں ممکنہ بہتری کا اشارہ ہے۔ صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ اور ٹیکنالوجی کے مستقبل پر اختلافات کے باوجود، مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے دونوں کمپنیوں کو مشترکہ مواقع تلاش کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

میٹا کے شعبۂ مصنوعی ذہانت کے سربراہ الیگزینڈر وانگ کے مطابق، دونوں کمپنیاں کئی ماہ سے اس منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ میٹا کے سابقہ بیان کے مطابق، ایپل کے سابق عہدیدار ڈینیئل گراس نے بھی دونوں کمپنیوں کو قریب لانے میں کردار ادا کیا۔
میٹا کا نیا اوپن ویٹ ماڈل

میٹا نے ’میوز اسپارک اوپن‘ (Muse Spark Open) متعارف کرایا ہے، جسے کمپنی امریکا میں تیار کردہ دستیاب اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز میں سب سے طاقتور قرار دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس ماڈل کو ایپل کے ایم ایل ایکس (MLX) فریم ورک کے ذریعے جدید میک اسٹوڈیو کمپیوٹرز پر چلانے کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ماڈل 816 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل ہے۔ اسے مقامی کمپیوٹرز پر چلانے کی صلاحیت سے ڈویلپرز کو کلاؤڈ سروسز پر انحصار کم کرنے اور اپنے ہارڈویئر پر اے آئی نظام چلانے کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ میٹا کے مطابق، ماڈل مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہوگا اور اس کا لائسنس تجارتی استعمال کی اجازت دے گا۔

میٹا کے علاوہ اینویڈیا، امریکی کمپنی ریفلیکشن اے آئی اور فرانس کی میسٹرال بھی اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز متعارف کرا چکی ہیں۔ ان ماڈلز کا مقصد مصنوعی ذہانت تک رسائی آسان بنانا، اخراجات کم کرنا اور مختلف کمپنیوں کو اپنے اے آئی نظام تیار کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

ایپل اور میٹا کے درمیان پرانے اختلافات

ایپل کے سربراہ ٹم کک اور میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ ماضی میں صارفین کی رازداری اور کاروباری حکمت عملی پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہے ہیں۔ 2018 میں فیس بک کے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے دوران کک نے زکربرگ کے طرزِ عمل پر تنقید کی تھی، جسے زکربرگ نے سطحی قرار دیا تھا۔

2021 میں ایپل کی جانب سے صارفین کی رازداری سے متعلق نئی پابندیوں کے بعد دونوں کمپنیوں کے درمیان اختلافات مزید بڑھے۔ ان پابندیوں نے فیس بک کے اشتہاری کاروبار کو بھی متاثر کیا۔

تاہم، مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعلقات میں نئی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اب کمپنیاں مسابقت کے باوجود ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور اے آئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔

Watch Live Public News