(ویب ڈیسک) گوگل نے اپنے جدید ترین اور انتہائی طاقتور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل ’ Gemini 4 Argon‘ تک عام رسائی کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر صرف سائبر سیکیورٹی ماہرین تک محدود رکھنے کے بعد اب یہ ماڈل دنیا بھر کے کاروباری اداروں اور بامعاوضہ سبسکرائبرز کے لیے بھی دستیاب کر دیا گیا ہے۔
جیمینائی ایپ میں ’ گوگل اے آئی پرو‘ اور ’الٹرا‘ کے بامعاوضہ صارفین اب اس ماڈل کو استعمال کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ ماڈل اینڈرائیڈ اسٹوڈیو، گوگل اے آئی اسٹوڈیو اور ایجنٹک پلیٹ فارم ’ گوگل اینٹی گریویٹی‘ پر ڈویلپرز کے لیے بھی مہیا کر دیا گیا ہے۔
فی الحال ڈویلپرز کے لیے اس کے نرخ 2 ڈالرز فی 10 لاکھ ان پٹ ٹوکنز اور 10 ڈالرز فی 10 لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکنز رکھے گئے ہیں، تاہم 30 نومبر کے بعد یہ قیمتیں بڑھ کر بالترتیب 4 ڈالرز اور 20 ڈالرز ہو جائیں گی۔
گوگل کا نیا ماڈل خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) سے وابستہ ماہرین کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
گوگل نے اندرونی طور پر اس ماڈل کے ذریعے پائتھن کوڈ بیسز کو بہتر بنایا، سائبر سیکیورٹی کی خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں دور کیا اور اپنے اوپن ماڈل ’گیما‘ کی رفتار کو 3 گنا تیز کیا۔
یہ ماڈل روبوٹکس کے میدان میں ہیومنائڈ روبوٹس کو طبعی دنیا کے قوانین اور ماحول کو سمجھنے میں معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر فیوژن جیسی جدید سائنسی تحقیق میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔
جیمینائی 4 آرگن کا براہِ راست مقابلہ اوپن اے آئی کے نئے ماڈل GPT-6 Astra اور میٹا کے Muse Wonder سے ہے۔
اگرچہ گوگل 2025ء کے زیادہ تر حصے میں میدان میں آگے رہا، تاہم دیگر حریف کمپنیوں کی تیز رفتار پیش رفت کے بعد گوگل نے اس نئے ماڈل کے ذریعے دوبارہ برتری حاصل کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔
اے آئی سیفٹی اور اس سے جڑے خطرات کے پیشِ نظر گوگل نے امریکی وائٹ ہاؤس کے رضاکارانہ ریویو پروسیس میں شرکت کی ہے، جہاں جیمینائی 4 نے سیفٹی فریم ورک کے تمام ضروری مراحل اور معائنہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔