اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
کیپشن: اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

ویب ڈیسک: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شرحِ سود میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ شرحِ سود میں اضافے کا فیصلہ اکثریتی بنیادوں پر کیا گیا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 ارکان میں سے 9 نے اضافے کے حق میں جبکہ ایک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ایک رکن نے شرح سود میں اس سے زیادہ اضافے کی حمایت کی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مہنگائی کو ہدف کی حد میں لانے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔ مہنگائی رواں مالی سال کے اختتام تک 7 فیصد کی بالائی حد تک پہنچنے کی توقع تھی۔ حالیہ پیش رفت کے باعث مہنگائی کو ہدف تک لانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اس کے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی کا فیصلہ کیا گیا۔ گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے مقابلے میں معاشی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مہنگائی میں ابتدائی بہتری کے باوجود مستقبل کے اثرات پر تشویش برقرار ہے۔ صارفین کی مہنگائی سے متعلق توقعات کو بھی مانیٹری پالیسی کے فیصلے میں مدنظر رکھا گیا ہے۔ معاشی حالات اور دیگر اہم میکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لے کر شرح سود سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل 2026 میں شرحِ سود میں ایک فیصد اضافے کے بعد اسے برقرار رکھا گیا تھا۔ اس سے قبل جون 2023 میں شرحِ سود 22 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم مہنگائی میں کمی کے بعد مرکزی بینک نے بتدریج اس میں کمی کی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح 7.1 فیصد رہی ہے، جبکہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ بھی بہتری کی جانب گامزن ہے۔

Watch Live Public News