ویب ڈیسک: عالمی ادارہ صحت کے مطابق فرانس میں شمونڈا وائرس (Shamonda Virus) سے انسان کے متاثر ہونے کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ متاثرہ شخص، جس کا مدافعتی نظام پہلے ہی انتہائی کمزور تھا، انتقال کرگیا۔ تاہم حکام تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا وائرس موت کی وجہ بنا یا اس میں کوئی کردار ادا کیا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق شمونڈا وائرس پہلے بنیادی طور پر جانوروں، خصوصاً مویشیوں میں پایا جاتا تھا۔ یہ وائرس پہلی بار 1965 میں نائجیریا میں شناخت کیا گیا تھا اور گائے، بھیڑ، بکریوں اور گھوڑوں سمیت مختلف جانوروں کو متاثر کرسکتا ہے۔
یہ وائرس عموماً Culicoides نامی چھوٹے کیڑے کے کاٹنے سے جانوروں میں منتقل ہوتا ہے۔ متاثرہ جانوروں میں بخار، اسہال اور دودھ کی پیداوار میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔
انسانوں کے لیے خطرہ کتنا ہے؟
عالمی ادارہ صحت نے اس کیس کو فی الحال الگ تھلگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام آبادی کے لیے وسیع پیمانے پر خطرے کے شواہد موجود نہیں۔ ادارہ فرانسیسی حکام کے ساتھ مل کر صورتحال کی نگرانی اور مزید تحقیقات کر رہا ہے۔
فی الحال شمونڈا وائرس کے لیے کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ وائرس انسانوں میں مزید پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔