ویب ڈیسک: اسرائیل کے انتخابی منظرنامے میں عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی نے حکومت سازی میں ان کے کردار کو اہم بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی تقریباً 21 فیصد آبادی عرب شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں مسلمان، عیسائی اور دروز شامل ہیں۔ تاہم، یہ تاثر درست نہیں کہ اسرائیل کے تمام عرب شہری مسلمان ہیں یا ان کی سیاسی ترجیحات یکساں ہیں۔
اسرائیلی عرب کون ہیں؟
اسرائیلی عربوں کی بڑی تعداد ان فلسطینی خاندانوں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو 1948 میں اسرائیل کے قیام اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کے دوران وہیں رہ گئے تھے۔ آج ان کے پاس اسرائیلی شہریت ہے اور وہ انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ بہت سے شہری اپنی شناخت کے لیے ’’فلسطینی شہریِ اسرائیل‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
شہریت کے باوجود عرب آبادی کو مختلف سماجی اور معاشی مسائل اور عدم مساوات کا سامنا ہے۔ ان کی سیاسی نمائندگی کے لیے کئی عرب جماعتیں سرگرم ہیں، جن کے نظریات اور ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
عرب جماعتیں کون سی ہیں؟
اسرائیلی عرب سیاست میں چار نمایاں جماعتیں حداش، تعل، بلد اور رعام ہیں۔ یہ جماعتیں مختلف مواقع پر اتحاد بنا کر یا الگ الگ انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
حداش: بائیں بازو کی جماعت، جو عرب اور یہودی شہریوں کے درمیان برابری، مزدوروں کے حقوق اور سماجی انصاف کی حمایت کرتی ہے۔
تعل: احمد طیبی کی قیادت میں سرگرم جماعت، جو فلسطینیوں کے شہری حقوق اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتی رہی ہے۔
بلد: عرب قومی شناخت اور تمام شہریوں کے لیے مساوی قومی حقوق کی حامی جماعت۔
رعام: منصور عباس کی قیادت میں مذہبی رجحان رکھنے والی عرب جماعت، جس نے دیگر عرب جماعتوں سے الگ ہو کر عملی سیاسی اتحادوں میں حصہ لیا ہے۔
ان جماعتوں کے حامیوں میں مختلف مذہبی اور سماجی طبقات شامل ہیں۔ عرب مسلمانوں کی بڑی تعداد شمالی اسرائیل اور دیگر عرب آبادی والے علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ عرب عیسائیوں اور دروز کی بھی اپنی سیاسی ترجیحات ہیں۔
عرب جماعتوں کی نشستیں کیوں اہم ہیں؟
اسرائیل کی پارلیمان، کنیسٹ، میں 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت جماعتوں کو حاصل ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں، جس کے باعث حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے اتحاد اہم ہوتے ہیں۔
عرب جماعتوں کا اتحاد ماضی میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ 2015 کے انتخابات میں جوائنٹ لسٹ نے 13 جبکہ 2020 میں 15 نشستیں حاصل کی تھیں۔ 2021 میں منصور عباس کی جماعت رعام سابقہ حکومتی اتحاد میں شامل ہوئی، جس سے اسرائیلی سیاست میں عرب جماعتوں کے ممکنہ کردار کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔
نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے لیے عرب جماعتوں کی اہمیت
اسرائیلی سیاست میں بنجمن نیتن یاہو کے حامی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان حکومت سازی کی کشمکش میں عرب جماعتوں کی حمایت اہم ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد بنانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان بھی اس معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کے لیے بھی حکومت سازی میں عرب جماعتوں کی حمایت ایک پیچیدہ سیاسی مسئلہ بن سکتی ہے۔ اگر کوئی بھی بڑا سیاسی بلاک 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو عرب جماعتوں کی حمایت یا پارلیمان سے باہر ان کی تائید فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔
تاہم، عرب جماعتوں کی حمایت ملنے کے باوجود حکومت بنانا خودکار عمل نہیں۔ اسرائیلی صدر اس رکنِ پارلیمان کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں خیال ہو کہ وہ مطلوبہ حمایت حاصل کر سکتا ہے۔
کیا اسرائیل میں سیاسی تعطل پیدا ہو سکتا ہے؟
اگر انتخابی نتائج کے بعد کوئی بھی سیاسی اتحاد اکثریت حاصل نہ کر سکے اور جماعتیں باہمی سمجھوتے پر نہ پہنچیں تو اسرائیل میں سیاسی تعطل پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت سازی کی کوششیں طویل ہونے یا نئے انتخابات کی نوبت آنے کا امکان رہتا ہے۔
اسرائیلی عرب شہریوں اور ان کی سیاسی جماعتوں کا کردار اس لیے اہم ہے کہ وہ نہ صرف ایک بڑی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ بعض انتخابی نتائج میں حکومت سازی کے لیے درکار پارلیمانی حمایت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی حتمی نشستوں اور سیاسی اثر و رسوخ کا تعین مستند انتخابی نتائج اور جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے ہی ہوگا۔