مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی امداد کی منظوری دے دی

مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی امداد کی منظوری دے دی

(ویب ڈیسک) مصر کی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے اپنی مسلح افواج کو سعودی عرب کے دفاع اور سیکیورٹی میں مدد فراہم کرنے کا باقاعدہ اختیار دے دیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمنٹ سے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ اگر دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی جانب سے درخواست کی جائے تو فوج کو دفاع کی اجازت دی جائے۔

مصری وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی اور انٹیلی جنس چیف حسن رشاد نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کر کے ولی عہد محمد بن سلمان کو صدر السیسی کا خصوصی خط پہنچایا۔

مصر نے واضح کیا ہے کہ اس کی فوجی معاونت سختی کے ساتھ سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گی اور مصری افواج یمن کے اندر کسی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لیں گی۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور تیل کی قومی کمپنی 'سعودی آرامکو' پر حملے کیے ہیں جس سے پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں۔

مصر 2015 کے سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد میں بنیادی طور پر بحری پارٹنر کے طور پر شامل ہوا تھا تاکہ بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

مصر نے 1991 کی خلیج جنگ کے بعد کسی بڑے پیمانے پر غیر ملکی زمینی فوج تعینات نہیں کی ہے۔

سعودی عرب مصر کا ایک بڑا سیاسی اور مالیاتی شراکت دار ہے، جس نے صدر السیسی کے دور میں اربوں ڈالرز کی امداد، مرکزی بینک میں ڈیپازٹس اور توانائی کی فراہمی میں قاہرہ کی بھرپور مدد کی ہے۔

Watch Live Public News