پاکستان کے سب سے بڑے اے آئی ہیکاتھون کا گرینڈ فائنل، 300 ٹیموں میں مقابلہ، 60 ہزار ڈالر کے انعامات

پاکستان کے سب سے بڑے اے آئی ہیکاتھون کا گرینڈ فائنل، 300 ٹیموں میں مقابلہ، 60 ہزار ڈالر کے انعامات
کیپشن: پاکستان کے سب سے بڑے اے آئی ہیکاتھون کا گرینڈ فائنل، 300 ٹیموں میں مقابلہ، 60 ہزار ڈالر کے انعامات

ویب ڈیسک: پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عالمی ٹیکنالوجی کے مواقع سے جوڑنے کے لیے علی بابا کلاؤڈ اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ اے آئی ہیکاتھون پاکستان 2026 کا گرینڈ فائنل پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ ملک کے سب سے بڑے اے آئی ہیکاتھون کے طور پر پیش کیے جانے والے اس مقابلے میں ملک بھر کے نوجوانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبوں کے ذریعے صحت، تعلیم، زراعت اور دیگر شعبوں کے مسائل کے جدید حل پیش کیے۔

ہیکاتھون کے لیے ملک بھر سے 16 ہزار سے زائد اے آئی منصوبے جمع کروائے گئے، جن میں سے ابتدائی انتخاب اور کراچی، لاہور و اسلام آباد میں علاقائی مقابلوں کے بعد 300 ٹیمیں قومی فائنل تک پہنچیں۔ مجموعی طور پر 60 ہزار امریکی ڈالر کا انعامی پیکیج مختص کیا گیا، جس میں 30 ہزار ڈالر نقد انعامات اور 30 ہزار ڈالر کے علی بابا کلاؤڈ کریڈٹس شامل تھے۔ مقابلے میں ’سالکس‘ (Salix) نے پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 7 ہزار امریکی ڈالر کا انعام جیتا، جبکہ دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں اور چھ مختلف کیٹیگریز کے رنر اَپس کو بھی انعامات دیے گئے۔

مقابلے میں صحت، مالیاتی شمولیت، تعلیم، اسمارٹ ایگریکلچر، اوپن انوویشن اور اردو و علاقائی زبانوں سمیت چھ شعبوں پر توجہ دی گئی۔ ہیکاتھون کا مقصد نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے محض استعمال تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں اپنی مصنوعات اور قابلِ عمل ٹیکنالوجی حل تیار کرنے کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس سلسلے میں شرکاء کو تربیت، رہنمائی اور جدید ڈیجیٹل ٹولز تک رسائی بھی دی گئی۔

تقریب میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن، صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن، علی بابا کلاؤڈ کے کنٹری ڈائریکٹر پاکستان ہینک شاؤ، ہیڈ آف مارکیٹنگ برائے مشرقِ وسطیٰ، ترکیہ و افریقہ ییلان ژوانگ، علی بابا کلاؤڈ کے نائب صدر ایرک وان، چیئرمین بنو قابل پروگرام نوید علی بیگ، سی ای او بنو قابل شاہد اقبال سمیت مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں، ٹیکنالوجی ماہرین اور تعلیمی و صنعتی شعبوں کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ علی بابا کلاؤڈ کے اشتراک سے پاکستان میں اے آئی ہیکاتھون کا انعقاد نوجوانوں کے لیے امید اور ایک اہم سنگِ میل ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں درست رہنمائی اور مواقع فراہم کرکے ملک کی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے تین سال قبل بنو قابل پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی تعلیم فراہم کرنے کا آغاز کیا، تاکہ وہ روزگار کے حصول کے ساتھ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے امکانات کے پیشِ نظر الخدمت نے اے آئی کورسز متعارف کروائے اور علی بابا کلاؤڈ کے اشتراک سے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں آزمانے اور جدید ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کے مطابق ہیکاتھون کے لیے نوجوانوں کی غیر معمولی دلچسپی سامنے آئی اور 16 ہزار سے زائد منصوبے موصول ہوئے۔ علاقائی مقابلوں کے بعد 300 ٹیموں کا قومی فائنل تک پہنچنا اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقابلے میں اپنا منصوبہ پیش کرنے والا ہر نوجوان کامیاب ہے، کیونکہ اصل مقصد نوجوانوں کو آگے بڑھنے، سیکھنے اور اپنے خیالات کو عملی شکل دینے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

علی بابا کلاؤڈ کے نائب صدر ایرک وان نے پاکستانی نوجوانوں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور مناسب مواقع میسر ہوں تو نوجوان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نئی ایجادات اور کاروباری منصوبوں کے ذریعے نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بنو قابل پروگرام کے تحت مفت آئی ٹی تعلیم فراہم کرنے پر الخدمت فاؤنڈیشن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ اشتراک پاکستان میں اے آئی ٹیلنٹ کی تلاش، تربیت اور فروغ کے لیے اہم ہے، انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر شعبوں کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کریں اور اپنے منصوبوں کے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔

Watch Live Public News