اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل کو فلسطین میں نسل کشی کا قصوروار دے دیا 

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل کو فلسطین میں نسل کشی کا قصوروار دے دیا 

(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل کو فلسطین میں نسل کشی کا قصوروار دے دیا۔

اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کی۔ غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی نسل کشی جاری ہے۔

تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق   اسرائیل فلسطینی علاقوں میں نسل کشی اور جنگی جرائم کا مرتکب ہوا،   مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے قتل، جبری بے دخلی اور املاک کی تباہی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مغربی کنارے میں جنوری 2025 سے فلسطینیوں کی بے دخلی 1967 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،اگست 2026 تک مغربی کنارے میں 34 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 7اکتوبر 2023 کے بعد مغربی کنارے میں فضائی حملوں سے 254 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں اسرائیلی افواج پر فلسطینی بچوں کو دانستہ قتل اور جسمانی و نفسیاتی نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں ۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے اور غیر قانونی بستیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی بھی اختلاف رائے رکھنے والوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہی۔

فلسطینی اتھارٹی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات اور متاثرین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Watch Live Public News