(ویب ڈیسک)وسطی لندن کے عالمی شہرت یافتہ تجارتی مرکز ' آکسفورڈ اسٹریٹ' (Oxford Street) پر پیر کے روز سے تمام گاڑیوں کی آمدورفت پر مستقل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے بعد یہ پورا علاقہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔
گریٹ پورٹ لینڈ اسٹریٹ سے لے کر آرچرڈ اسٹریٹ تک پھیلا ہوا تقریباً 0۔6 میل کا حصہ بسوں، ٹیکسیوں اور سائیکلوں سمیت ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اتوار کی رات لندن کی روایتی لال ڈبل ڈیکر بس آخری مرتبہ اس سڑک سے گزری، جس کے بعد یہ تاریخ کا حصہ بن گئی۔البتہ شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال کی طرف ملانے والی بعض کراس سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بدستور جاری رہے گی۔
یہ بند ہونے والا حصہ ٹوٹنہم کورٹ روڈ سے ماربل آرچ تک پھیلی ہوئی1۔2میل طویل سڑک کا تقریباً نصف بنتا ہے۔
روزانہ تقریباً 5 لاکھ افراد آکسفورڈ اسٹریٹ کا رخ کرتے ہیں اور سیلفریجز، لبرٹی، جان لیوس اور مارکس اینڈ اسپینسر جیسے مشہور اسٹورز پر سالانہ 4.2 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
میئر لندن صادق خان نے اس فیصلے کو "تاریخی سنگِ میل" قرار دیتے ہوئے کہا کہ آن لائن شاپنگ کے بڑھتے رجحان کے باعث سڑک پر دکانیں اور روزگار ختم ہو رہے تھے، جسے روکنا ناگزیر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کرسمس کے پیشِ نظر پیدل چلنے والوں کے لیے زیادہ تحفظ اور کھلی جگہ میسر آئے گی جبکہ نئے سال میں شجرکاری، بینچز اور نئے پبلک اسکوائرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ دارالحکومت کی معیشت اور خوبصورتی میں اضافہ ہو۔
علاقے کی نگراں ویسٹ منسٹر سٹی کونسل نے اس فیصلے پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن میں سب سے بڑا مسئلہ معذور اور خصوصی افراد کی رسائی کا ہے۔
کونسل کے ڈپٹی لیڈر ٹم بارنس نے واضح کیا کہ آکسفورڈ سرکس ٹیوب اسٹیشن پر معذور افراد کے لیے بغیر سیڑھیوں کے (Step-free) سہولت موجود نہیں، جس سے ان کے لیے یہاں پہنچنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اردگرد کے علاقوں میں شور، ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک کے دباؤ کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور مسائل پیدا ہونے پر میئر لندن کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
اس منصوبے پر مقامی سیاست دانوں اور میئر کے دفتر کے درمیان شدید اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں ویسٹ منسٹر کونسل سے منصوبہ بندی کے اختیارات لے کر حکومتی تعاون سے ایک خصوصی ڈویلپمنٹ کارپوریشن بنائی گئی ہے، جسے مقامی رہنماؤں نے غیر جمہوری طریقہ کار قرار دیا ہے۔