ویب ڈیسک: حیدرآباد یوتھ کریج ویلفیئر گروپ کے بانی سلمان خان نے مبینہ طور پر 14 اگست کو مسلسل پولیس ہراسانی اور جھوٹے فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کے بعد خودکشی کی کوشش کی۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی ادارے اور مقامی پولیس کس طرح مسلم سماجی کارکنوں کو کمیونٹی کی فلاحی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے دباؤ کا نشانہ بناتے ہیں۔
پولیس افسران نے مبینہ طور پر سلمان خان کو مسلسل نگرانی اور توہین آمیز پوچھ گچھ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔ پولیس نے مبینہ طور پر بنیادی سماجی خدمات فراہم کرنے والے ایک کمیونٹی رہنما کے خلاف من گھڑت قانونی مقدمات درج کیے۔ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے اقلیتی فلاحی اقدامات اور نوجوان قیادت کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال کیا۔مسلسل انتظامی دباؤ اور مبینہ سرکاری دھمکیوں نے ایک نچلی سطح کے سماجی کارکن کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ سلمان خان کے ساتھ مبینہ ہراسانی مقامی حکام کی جانب سے مسلم سول سوسائٹی کارکنوں کو دباؤ میں رکھنے کے الزامات کو اجاگر کرتی ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سالانہ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد خودکشیاں رپورٹ ہوتی ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کو کسی مخصوص ادارہ جاتی دباؤ سے براہِ راست منسلک کرنے کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے ریکارڈ میں ہر سال پولیس بدسلوکی، غیر قانونی حراست اور طاقت کے مبینہ ناجائز استعمال سے متعلق بڑی تعداد میں شکایات درج ہوتی ہیں۔
بھارت میں لاکھوں غیر سرکاری تنظیمیں اور فلاحی ادارے کام کرتے ہیں، جبکہ بعض مسلم قیادت میں چلنے والی تنظیمیں ٹیکس تحقیقات، انتظامی پابندیوں اور قانونی کارروائیوں کے الزامات کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ بھارت میں امنِ عامہ اور اجتماعات سے متعلق متعدد مقدمات درج ہوتے ہیں، جنہیں بعض انسانی حقوق کے کارکن بنیادی شہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ سلمان خان سے متعلق الزامات پولیس اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، اقلیتی سماجی کارکنوں پر دباؤ اور آزاد کمیونٹی قیادت کو محدود کرنے کے وسیع تر خدشات کو اجاگر کرتے ہیں۔