ویب ڈیسک: USCIRF نے RSS ارکان پر ہدفی امریکی پابندیوں کا مطالبہ کردیا۔ یہ مطالبہ موہن بھاگوت کے دورۂ امریکہ سے قبل سامنے آیا۔
بھاگوت 29 اگست کو نیویارک کی “Universal Oneness Celebrations” میں شریک ہوں گے۔ تقریب American Hindus for Engagement and Dialogue کے زیرِ اہتمام ہوگی۔ USCIRF چیئرمین آصف محمود نے نریندر مودی کو RSS رکن قرار دیا۔ انہوں نے RSS کو متعدد ذیلی تنظیموں کا چھتری نما نیٹ ورک قرار دیا۔ USCIRF کے مطابق RSS سے منسلک گروہوں پر اقلیتوں کے خلاف حملوں کے الزامات ہیں۔
عیسائیوں اور مسلمانوں کی سلامتی پر بھارت پھر عالمی سوالات کی زد میں ہے۔ آصف محمود پہلے 20 کروڑ سے زائد بھارتی مسلمانوں کے عدم تحفظ پر خبردار کرچکے ہیں۔ انہوں نے 30 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کی بدحالی بھی اجاگر کی تھی۔ USCIRF نے روہنگیا اور بنگالی مسلمانوں کی ملک بدری پر بھی تشویش ظاہر کی۔ آسام میں مسلمانوں کی حراست اور ملک بدری کے معاملات بھی اٹھائے گئے۔
کمشنر جین ملز نے RSS قیادت سے سفارتی دوری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ RSS رہنماؤں کو اعلیٰ سطحی امریکی ملاقاتیں اور سفارتی مراعات نہ دینے کی سفارش کی گئی۔مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار RSS ارکان پر پابندیاں تجویز کی گئیں۔ بھارت کا سچ سامنے آنے پر USCIRF چیئرمین آصف محمود کی کردار کشی پر اتر آیا۔
USCIRF کے الزامات کا جواب دینے کے بجائے آصف محمود کی ذات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی حلقے آصف محمود کے مسلمان اور پاکستانی نژاد ہونے کو بنیاد بنا کر ان کی ساکھ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ تنقید کا رخ مذہبی آزادی کے اصل سوالات سے ہٹا کر USCIRF چیئرمین کی شناخت کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ RSS پر پابندیوں کے مطالبے نے مودی حکومت کو ایک نئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ سے دوچار کردیا۔ آصف محمود کے خلاف شخصی حملے USCIRF کے اٹھائے گئے بنیادی سوالات کا جواب نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ بھاگوت کا دورہ 25 اگست سے امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ تک متوقع ہے۔ یہ دورہ RSS کی صد سالہ بین الاقوامی مہم کا حصہ ہے۔ USCIRF پہلے ہی بھارت کو “Country of Particular Concern” قرار دینے کی سفارش کرچکا ہے۔ مارچ 2026 رپورٹ میں RSS اور RAW پر ہدفی پابندیاں بھی تجویز کی گئیں۔تجویز کردہ اقدامات میں اثاثے منجمد اور امریکی داخلے پر پابندیاں شامل ہیں۔ بھاگوت کے دورے سے پہلے RSS پر امریکی دباؤ اور عالمی تنقید مزید بڑھ گئی۔ مودی کی RSS وابستگی اب بھارت کے مذہبی آزادی ریکارڈ پر بڑا عالمی سوال بن گئی۔