(ویب ڈیسک): امریکا نے تاریخ میں پہلی بار باضابطہ اور عوامی سطح پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اس نے خلا کے مدار میں آپریشنل "اسپیس کنٹرول ہتھیار" تعینات کر رکھے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر خلائی سلامتی اور عسکری توازن کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک (Troy Meink) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ امریکا بدلتے ہوئے اسٹریٹجک خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، اور دشمن کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحانہ کارروائی کے مقابلے میں امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مدار میں یہ ہتھیار تعینات کرنا ضروری تھا۔
اگرچہ ٹرائے مینک نے ان ہتھیاروں کی درست تکنیکی صلاحیتوں، اقسام یا مدار میں بھیجے جانے کی تاریخ سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں۔
امریکی اسپیس فورس کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مدار میں موجود یہ سسٹم جارحانہ اور دفاعی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ہنگامی ضرورت پڑنے پر یہ جدید صلاحیتیں خلائی مدار میں موجود دشمن کے اثاثوں کو مکمل طور پر ناکارہ، جام یا تباہ کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ سن 1967 کے بین الاقوامی آؤٹر اسپیس معاہدے (Outer Space Treaty) کے تحت زمین کے مدار میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMDs) کی تعیناتی پر مکمل پابندی عائد ہے، تاہم روایتی و سائبر اسپیس اثاثوں کے حوالے سے قانونی اور اسٹریٹجک دائرہ کار زیرِ بحث رہا ہے۔
چین کا سخت احتجاج اور ردِعمل:
بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکا کی جانب سے خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی پر شدید تشویش اور مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین خلا کے مکمل پرامن استعمال اور اسے محفوظ و اسلحہ سے پاک رکھنے کا مضبوط حامی ہے۔
بیجنگ نے زور دیا کہ خلا کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے اور اسلحے کی نئی دوڑ شروع کرنے کی ہر کوشش کی کھل کر مخالفت کی جائے گی۔
چینی حکام نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ خلا میں اپنی فوجی قوت بڑھانے کا سلسلہ فوری بند کرے اور زمینی و خلائی استحکام کے لیے ٹھوس، ذمہ دارانہ اقدامات اٹھائے۔