ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’ نیو امریکا‘ رکھنے کی تجویز دے دی، تاہم ریاست کی گورنر مشیل لوجان گریشم نے اسے فوری طور پر مسترد کردیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ کئی لوگوں نے نیو میکسیکو کا نام ’ نیو امریکا‘ رکھنے کی تجویز دی ہے اور انہیں یہ نام زیادہ باوقار اور خوبصورت لگتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ایک تصویر شیئر کی جس میں ’نیو میکسیکو‘ کے نام سے ’میکسیکو‘ ہٹا کر ’امریکا‘ لکھا گیا تھا۔
گورنر مشیل لوجان گریشم نے کہا کہ ریاست کا نام تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے بقول یہ نام امریکا کے موجودہ ملک کی تشکیل سے بھی پہلے سے چلا آرہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ ایسے معاملات اٹھا کر عوام کی توجہ پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سمیت اہم مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرنے کی تجویز ممکنہ طور پر انٹرنیٹ پر شروع ہونے والی ایک مذاق پر مبنی مہم سے سامنے آئی۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز دے چکے ہیں۔ جنوری 2025 میں انہوں نے خلیج میکسیکو کا نام ’خلیج امریکا‘ رکھنے کا حکم دیا تھا، جبکہ بعد میں آبنائے ہرمز کا نام ’ ٹرمپ آبنائے‘ رکھنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔