اسرائیل میں نیتن یاہو کے بڑے حریف گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

اسرائیل میں نیتن یاہو کے بڑے حریف گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟
کیپشن: اسرائیل میں نیتن یاہو کے بڑے حریف گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

ویب ڈیسک: اسرائیل کے اہم انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بڑے حریف گادی آئزنکوٹ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مراکشی تارکینِ وطن کے گھرانے میں پیدا ہونے والے آئزنکوٹ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں اور اب اپوزیشن کی جانب سے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے نمایاں امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

آئزنکوٹ اس وقت سیاسی تنازع کا شکار بھی ہوئے جب معروف ٹی وی میزبان ینون میگل نے ان کے مراکشی پس منظر پر نسلی نوعیت کے توہین آمیز تبصرے کیے۔ ان بیانات پر سیاسی اور میڈیا حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ نیتن یاہو نے بھی ان تبصروں کی مذمت کی۔

66 سالہ آئزنکوٹ پانچ بچوں کے والد ہیں۔ انہوں نے 1978 میں اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار کی اور 2015 سے 2019 تک فوج کے سربراہ رہے۔ 2022 میں سیاست میں آنے کے بعد وہ بینی گینٹز کے ساتھ اپوزیشن کا حصہ بنے۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد وہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ہوئے، تاہم غزہ جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی نہ ہونے پر جون 2024 میں کابینہ چھوڑ دی۔

غزہ جنگ کے دوران آئزنکوٹ کے بیٹے گال آئزنکوٹ دسمبر 2023 میں لڑائی میں مارے گئے، جبکہ ان کے دو بھتیجے بھی جنگ میں ہلاک ہوئے۔ آئزنکوٹ نے اپنے بیٹے کی قربانی کو اپنی سیاسی جدوجہد کا اہم محرک قرار دیا ہے۔

کیا آئزنکوٹ نیتن یاہو کو شکست دے سکتے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق رائے عامہ کے بعض حالیہ جائزوں میں آئزنکوٹ کی جماعت یاشار کو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں 20 سے 23 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے اور کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

آئزنکوٹ نے 7 اکتوبر کے حملے اور سکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن بنانے اور تمام شہریوں کے لیے لازمی فوجی یا قومی خدمت کی حمایت کی ہے۔ وہ نیتن یاہو پر غزہ جنگ طول دینے اور یرغمالیوں کی رہائی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام بھی لگا چکے ہیں۔

فلسطین اور ایران کے بارے میں آئزنکوٹ کا مؤقف

سابق فوجی سربراہ ہونے کے ناتے آئزنکوٹ سکیورٹی معاملات پر سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں کی طاقت کم کرنے کے حامی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ فوجی کامیابیوں کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی ضروری ہیں۔

فلسطین کے معاملے پر آئزنکوٹ نے غزہ میں حماس کی حکمرانی ختم کرنے کا ہدف پیش کیا ہے۔ وہ مغربی کنارے کے باضابطہ انضمام اور غیر قانونی یہودی بستیوں کے خلاف بھی مؤقف رکھتے ہیں، لیکن اکتوبر 2023 کے بعد دو ریاستی حل کی حمایت مسترد کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے کوئی متبادل سیاسی حل پیش نہیں کیا۔

یوں آئزنکوٹ کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ نیتن یاہو کی قیادت، 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامیوں کی جواب دہی اور قومی اتحاد ہے، تاہم ان کی ممکنہ کامیابی کا انحصار انتخابی نتائج کے ساتھ مختلف جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے اتحاد پر بھی ہوگا۔

Watch Live Public News