ویب ڈیسک: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی فوجی اور جنگی بحری جہاز بھیجے جا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹائے جانے کی تصدیق کی، تاہم فیصلے کی وجہ نہیں بتائی گئی اور ان کے جانشین کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
بریٹ سلویا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے شعبۂ حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے سربراہ تھے، جسے امریکی فوجی اصطلاح میں ’جے فائیو‘ کہا جاتا ہے۔ اس عہدے پر فائز افسر امریکی فوجی منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ کے دور میں وہ اس عہدے سے ہٹائے جانے والے دوسرے جنرل ہیں۔ اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل جوزف میک گی کو گزشتہ سال اکتوبر میں ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جوائنٹ اسٹاف کے ترجمان نے بریٹ سلویا کی 32 سالہ خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
امریکی حکام کے مطابق،ایران پر نئے حملوں کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق علاقائی اتحادیوں کو ممکنہ کارروائی اور ایران کی جوابی کارروائی کے خدشات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، مزید امریکی فوجیوں اور ایک تیسرے طیارہ بردار جنگی جہاز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
بریٹ سلویا کی برطرفی امریکی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ کے دور میں اب تک تقریباً دو درجن اعلیٰ فوجی عہدیدار عہدوں سے ہٹائے جا چکے ہیں یا انہیں ریٹائرمنٹ لینا پڑی ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے اعلیٰ فوجی افسران کی تعداد میں 20 فیصد کمی کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، جسے یکم جنوری 2027 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔