بھارتی پنجاب میں قتل و غارت گری جاری، اے ایس آئی اقبال سنگھ قتل

بھارتی پنجاب میں قتل و غارت گری جاری، اے ایس آئی اقبال سنگھ قتل

(ویب ڈیسک)  یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ واردات نہیں, ایک سال کے دوران چھ اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئیز) کے قتل نے بھارت میں برسرِ اقتدار حکومت کے تحت امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بھارتی پنجاب میں قتل و غارت گری کی نئی لہر، بھارتی پنجاب میں امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال ہے۔13 اکتوبر 2026ء کو منشیات کے خلاف سرگرم کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کو مانسا میں ایک میڈیکل اسٹور پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا، جبکہ ان کے چار ساتھی زخمی ہوئے۔ بعد ازاں میڈیکل اسٹور کے مالک اشونی کمار کو راجستھان سے گرفتار کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

11 اکتوبرکو فیروزپور میں تعینات کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ کے اے ایس آئی اقبال سنگھ کو ترن تارن میں قتل کر دیا گیا۔ 6 اکتوبر کو عام آدمی پارٹی (AAP) سے وابستہ سرپنچ اشونی کمارکو ترن تارن کے گاؤں ٹوٹ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

4 اور 5 اکتوبر: امرتسر کے قریب اجنالہ اور جگدیو خورد کے علاقوں میں فائرنگ کے ایک واقعے کے دوران گورنمنٹ ریلوے پولیس کے اے ایس آئی سکھچین سنگھ زخمی ہو گئے۔

3 اور 4 اکتوبر: سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اَپ آرٹسٹ مدھوسودن سنگھ کو امرتسر کی لوہارکا روڈ پر قتل کر دیا گیا۔ 

اسی عرصے میں لدھیانہ کے علاقے مانے وال میں سابق سرپنچ نوتیج سنگھ نیتو، عمر 57 سال، کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

بھٹنڈہ کے جسی پاؤوالی چوک میں سابق سرپنچ جگتار سنگھ عرف تارا، عمر 65 سال، کو کلہاڑی کے وار سے قتل کیا گیا۔

18 ستمبرکو امرتسر کی بھگتانوالہ اناج منڈی میں پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) کی ڈیوٹی کے دوران اے ایس آئی ہرجیت سنگھ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

12 اور 13 ستمبر کوبرنالہ میں پنجابی گلوکار گلاب سدھو کی رہائش گاہ پر مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ ا مئی 2026ء میں مجیٹھہ کے قریب اے ایس آئی جوگا سنگھ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ 

گینگوں کی مبینہ دشمنی کے دوران امرتسر میں ایک سیلون ورکر بھی مارا گیا۔  کپور تھلہ میں قتل کے ایک مقدمے کے گواہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

فروری 2026ءمیںگرداسپور کے قریب ایک چیک پوسٹ پر اے ایس آئی گرنام سنگھ اور ہوم گارڈ اہلکار اشوک کمار کو قتل کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے عہدیداروں اور مقامی رہنماؤں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں ترن تارن میں شادی کی تقریب میں شریک ایک سرپنچ بھی شامل تھا۔

ترن تارن میں کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ کے اے ایس آئی اقبال سنگھ کو ڈیوٹی سے گھر واپسی کے دوران موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا۔

پنجاب میں بڑھتے ہوئے قتل، گینگسٹر تشدد اور پولیس پر حملوں نے بھارت کی سکیورٹی حکمتِ عملی کو کٹہرےبے نقاب کر دیا ہے۔

عام آدمی پارٹی کے وزراء نے بی جے پی کی قیادت میں قائم مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لارنس بشنوئی کو تحفظ فراہم کر رہی ہے یا اس کی سرپرستی کر رہی ہے، کیونکہ حکومت اسے مقامی مقدمات میں پیش کرنے کے لیے پنجاب منتقل کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

لارنس بشنوئی، جو تقریباً 2014ء سے بھارت میں قید ہے اور گجرات کی ایک انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں بند ہے، ایسے مجرمانہ نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات کا مرکزی کردار بنا ہوا ہے جو بیرونِ ملک موجود اپنے ساتھیوں کے ذریعے بھی سرگرم ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارتی پنجاب لہولہان، مودی حکومت گینگسٹر تشدد اور گندی سیاست کو ہوا دے رہی ہے 

پنجاب میں گینگسٹر تشدد، منصوبہ بندی کے تحت قتل، منشیات کے نیٹ ورکس اور عام آدمی پارٹی (AAP) کی حکومت کے خلاف شدید سیاسی محاذ آرائی میں اضافے کے باعث نریندر مودی کی قیادت میں قائم بی جے پی حکومت سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے

کبھی عام آدمی پارٹی اور کبھی پاکستان پر جھوٹے الزمات عائد کیے جا رہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت کی  اپنی اندرونی کمزوریوں اور خامیوں کا ملبہ دوسرں پر ڈال رہی۔

مودی حکومت اور بی جے پی پنجاب میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کو محض عام آدمی پارٹی کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کر سکتیں۔

Watch Live Public News