(ویب ڈیسک)الیکشن کمشن نے الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کی تمام اہم ویڈیو ریکارڈنگز دانستہ غائب کر دیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مئی 2023 میں کرناٹک کے سرنگری حلقے سے اپوزیشن امیدوار ٹی ڈی راجیگوڑا 201 ووٹوں سے کامیاب قرار پائے ۔ پوسٹل بیلٹ کی دوبارہ گنتی کے بعد اچانک نتائج بدل کر حکمراں جماعت کے امیدوار ڈی این جیوراج کو فاتح قرار دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی ویڈیو طلب کرنے پر ریکارڈ غائب ہونے کا شرمناک دعویٰ کیا گیا ہے۔انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمشن کے آئین کے مطابق گنتی کی ویڈیو گرافی لازمی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ویڈیو ریکارڈنگز کی ناقابلِ قبول گمشدگی پرالیکشن کمیشن کی سخت ترین الفاظ میں سرزنش کی گئی۔
الیکشن کمیشن کی کھلی جانبداری اور ثبوتوں کی گمشدگی نے نام نہاد بھارتی جمہوریت اور اس کی ساکھ کا جنازہ نکال دیا۔ الیکشن کمیشن کے خلاف عوامی اشتعال ملک گیر سول احتجاج میں تبدیل ہو چکا ہے۔ہزاروں شہری اور سول سوسائٹی کے رہنما سڑکوں پر نکل کر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارت میں بارہا ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جہاں متنازع حلقوں میں سرکاری پروٹوکولز اور ضابطوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ 2024 کے چندی گڑھ میئر الیکشن میں پریذائیڈنگ آفیسر نے براہِ راست کیمرے کے سامنے اپوزیشن کے آٹھ ووٹ دانستہ طور پر مسترد کیے۔
نومبر 2018 کے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز کے اسٹرانگ رومز میں نصب کیمرے گھنٹوں بند رکھے گئے۔ مئی 2021 کے اتر پردیش پنچایت انتخابات میں کاؤنٹنگ مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور اہم انتخابی ریکارڈز پراسرار طور پر غائب کر دیے گئے۔
نومبر 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات میں بھی نتہائی کم فرق والی نشستوں پر پوسٹل بیلٹ گنتی کا ویڈیو ریکارڈ غائب ہونے کے اسکینڈلز سامنے آئے۔