بھارتی چیف الیکشن کمشنر کی مبینہ  دھاندلیوں کیخلاف  کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، دارالحکومت مکمل مفلوج

بھارتی چیف الیکشن کمشنر کی مبینہ  دھاندلیوں کیخلاف  کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، دارالحکومت مکمل مفلوج

(ویب ڈیسک) چیف الیکشن کمشنر کی مبینہ دھاندلیوں کے خلاف کاکروچ پارٹی کا احتجاج  ملک گیر مظاہروں میں تبدیل، دہلی شہر مکمل طور پر مفلوج ہوگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق طلبہ، کسانوں اور دلت تنظیموں کے ارکان سمیت کم از کم 10 ہزار افراد حراست میں ہیں ،   دہلی میں دفعہ 163 نافذ، عارضی حراستی مراکزقائم، ناکے، ہر قسم کے اجتماع پر مکمل پابندی کردی گئی ۔

  ووٹر فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے جانے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔ بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ   بھارتی الیکشن کمیشن نے  انتخابی عمل میں بی جے پی کا ساتھ دیا ہے۔ 

بی بی سی کے مطابق انڈیا کا دارالحکومت اس وقت سکیورٹی کے ایسے غیرمعمولی حصار میں ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی،  جنتر منتر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کرفیو نافذ،  30 ہزارپولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں ۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق  مظاہرین کو روکنے کیلئے میٹرو اسٹیشن بند، انٹرنیٹ معطل، شہری محصور ہوگئے،  ریلویز نے نئی دہلی سے آنےاور جانے والی تمام 245ٹرینیں منسوخ کر دیں۔

  کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے،  پارٹی رہنما سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق   نیو لانڈری، اسکرول، نو بھارت ٹائمز اور رپورٹر ٹی وی کے صحافی  کواحتجاج کی کوریج کے دوران گرفتار  کرلیا گیا، ماہرِ معاشیات ژاں دریژ ، سابق وزیراعلیٰ پنارائی وجین اور متعدد ارکانِ پارلیمان کو بھی احتجاج کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔

دہلی میں مظاہرین اور رہنماؤں پر کیے جانے والے وحشیانہ کریک ڈاؤن کا معاملہ اقوام متحدہ تک جا پہنچا۔

۔ اقوام متحد ہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان الخیتان  نے بیان میں کہا کہ  قانون نافذ کرنے والے  محکمے پرامن مظاہرین پر تشدد کرنے سے باز رہیں ۔ 

اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل   نےغیر قانونی حراست میں لیے گئے افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

سی جے پی قیادت کا کہنا ہے کہ  چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ووٹر لسٹ تنازع کے حل تک پرامن احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

 راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں  نے احتجاجی تحریک کی حمایت، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کردیا۔راہول گاندھی نے کہا کہ   نریندر مودی، امت شاہ ، گیانیش کمار، اجیت ڈوول کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

بی جے پی انتظامیہ نے مذاکرات  کی  بجائے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور تشدد کا راستہ اپنایا۔ پابندیوں اور حراستوں پر کشمیری رہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ   دہلی کی موجودہ صورتحال نے  2019 کے بعد کے کشمیر کی یاد تازہ کردی۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت اپنے ہی تیار کردہ جال میں پھنستی جا رہی ہے۔   وزیر تعلیم کی طرح یہ احتجاج بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفی پر ختم ہو گا ۔  ملک گیر  احتجاج اور اقوام متحدہ کا اظہار تشویش ملکی اور عالمی سطح پر بی جے پی حکومت پر عدم اعتماد ہے۔ 

Watch Live Public News