(ویب ڈیسک) بھارت میں ووٹر لسٹوں میں مبینہ خفیہ ردوبدل اور قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی کے انکشافات کے بعد سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے، جس پر ’ کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے دستبردار ہونے کے لیے 48 گھنٹوں کا حتمی الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت ڈِپکے نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے 48 گھنٹوں کے اندر اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دیا تو ان کی جماعت پورے بھارت میں ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دے گی۔
انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ گیانیش کمار کے استعفے کے بغیر اب کسی صورت پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔
ایک معروف بھارتی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، دو الیکشن کمشنرز نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے ووٹر لسٹوں کی اپ ڈیٹ کے عمل پر سنگین سوالات اور تحفظات اٹھائے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اندرونی اعتراضات نئے ووٹرز کے اندراج، پرانے ووٹرز کے نام فہرستوں سے غیر قانونی طور پر خارج کرنے اور دوبارہ شامل کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تھے۔دونوں معترض کمشنرز نے نئے ووٹرز کے اندراج والے آن لائن 'فارم 6' میں کی گئی غیر اعلانیہ تبدیلیوں کو قواعد کے منافی قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق نئے فارم میں یہ کالم شامل کیا گیا تھا کہ کیا نئے ووٹر، ان کے والدین یا دادا دادی کے نام پرانی ووٹر فہرست میں موجود تھے یا نہیں؟اگرچہ فارم پر اس سوال کو لازمی ظاہر کرنے والا نشان موجود نہیں تھا، لیکن آن لائن پورٹل میں ایسا الگورتھم فیڈ کیا گیا تھا کہ اس کا جواب دیے بغیر فارم آگے جمع ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ کمشنرز کے مطابق اس نوعیت کی کسی بھی شرط کے لیے باقاعدہ متعلقہ انتخابی قوانین میں پارلیمانی ترمیم ضروری تھی۔
اپوزیشن حلقوں کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں یہ تمام مشکوک اور پیچیدہ تبدیلیاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں ناجائز انتخابی فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں۔