1975ء میں گم ہونے والا بٹوہ 51 سال بعد مالک کو واپس مل گیا

1975ء میں گم ہونے والا بٹوہ 51 سال بعد مالک کو واپس مل گیا

(ویب ڈیسک) عام طور پر اگر کسی کا بٹوہ یا والٹ گم ہو جائے تو چند روز بعد اس کی واپسی کی امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، لیکن کینیڈا میں ایک ایسا انوکھا اور دنگ کر دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص کو اپنا گمشدہ بٹوہ پورے 51 سال بعد واپس مل گیا، جس نے اس کے ماضی کی بھولی بسری یادیں ایک بار پھر تازہ کر دیں۔

یہ واقعہ کینیڈا کے علاقے ڈارٹ ماؤتھ میں پیش آیا، جہاں رچرڈ گیلوری نامی شہری کا بٹوہ 1975ء میں اچانک گم ہو گیا تھا اور کافی تلاش کے باوجود نہ مل سکا۔

نصف صدی سے زائد عرصے بعد، میٹی گولڈ اسمتھ نامی ایک بڑھئی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک پرانے مکان کی مرمت کا کام کر رہا تھا کہ فرش کے تختوں کے نیچے سے مٹی میں دبا یہ پرانا بٹوہ برآمد ہوا۔جب بڑھئی نے بٹوہ کھولا تو اس میں موجود دستاویزات حیرت انگیز طور پر محفوظ حالت میں ملیں۔

بٹوے کے اندر سے رچرڈ گیلوری کا اس دور کا ڈرائیونگ لائسنس، ہائی اسکول اسٹوڈنٹ آئی ڈی کارڈ، ہاتھ سے لکھا ہوا اصل برتھ سرٹیفکیٹ، ایک ڈالر کا پرانا کرنسی نوٹ اور 1975ء کے ایک تھیٹر ڈرامے کا ڈیڑھ ڈالر والا ٹکٹ موجود تھا۔

ایماندار بڑھئی میٹی گولڈ اسمتھ نے بٹوے کو اس کے اصل حقدار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں۔

یہ پوسٹ ڈونا گیلوری نامی خاتون کی نظروں سے گزری، جنہوں نے فوری طور پر شناخت کر لیا کہ یہ تمام دستاویزات اور بٹوہ دراصل ان کے شوہر رچرڈ گیلوری کا ہے۔ یوں رابطہ ہونے پر یہ یادگار امانت 51 سال بعد رچرڈ گیلوری کے سپرد کر دی گئی۔

51 سال بعد اپنا گمشدہ بٹوہ دوبارہ ہاتھوں میں دیکھ کر رچرڈ گیلوری کی خوشی اور حیرت کی انتہا نہ رہی۔

انہوں نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا "مجھے یہ تو یاد تھا کہ نصف صدی پہلے گھر میں میرا بٹوہ گم ہوا تھا، لیکن اس کے اندر موجود چند اشیاء نے مجھے حیران کر دیا ہے۔ مجھے بالکل یاد نہیں کہ میں نے 1975 میں کوئی تھیٹر دیکھا تھا، اور ڈیڑھ ڈالر کا وہ ٹکٹ دیکھ کر پرانا وقت آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ہاتھ سے لکھا برتھ سرٹیفکیٹ دیکھ کر بھی انہیں شدید تعجب ہوا کہ آخر ان کے والدین نے یہ کاغذ ان کے بٹوے میں کیوں رکھا تھا۔

Watch Live Public News